اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 98
حضرت خلیفتہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۹۸ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء ہالینڈ میں جو مبلغ تھے ہالینڈ میں آکر ٹھہرے تھے۔مشن ہاؤس میں انہوں نے لطیفے سنائے کہ ڈاک کے تھیلے کے تھیلے آنے لگ گئے۔مصیبت پڑگئی سارے مشن ہاؤس میں یہ پتہ کرنے کے لئے نکالنے کے لئے کہ کون سی ملک صاحب کی ڈاک ہے، کافی مشکل پیش آتی تھی اور وہ جانتی تھیں کہ یہ دوسری شادی ہے۔اعتراض ہے تعلیم پر لیکن ضرورت سے انکار نہیں کر سکتیں تھیں۔اتنے گھر تباہ ہوئے ہیں اس ظالمانہ معاشرے کے نتیجے میں کہ ضرورت بھی پڑے تو ایک سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے۔یہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آج کی تہذیب کے اکثر دیکھ ورثہ ہیں اس تعلیم سے انکار کا۔اس کے علاوہ آپ تصور کریں کہ دوصورتوں میں سے اگر یہ نہیں تو پھر دوسری صورت کیا ہے؟ بھاری تعداد میں عورتیں بغیر شادی کے رہیں ان کے جذبات کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی یعنی صرف سو کنا پے سے ہوسکتی ہے۔لیکن اگر بغیر شادی کے رہیں تو کہتے ہیں کوئی تکلیف نہیں۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ اگر ایک مرد ایک سے زیادہ شادیاں کرتا ہے اور عورت کو یہ اختیار ہے کہ بغیر شادی کے رہے یا دوسری شادی میں شریک ہو جائے تو شاذ کے طور پر آپ کو ایسی عورت ملے گی جو دوسری شادی میں شریک ہونا پسند نہ کرے اور اکیلی رہ جائے۔شادی شدہ ہو تو اس موقع پر طلاق نہیں لیتی حالانکہ اس کو اختیار ہے اور اگر شادی شدہ نہ ہوتو دیکھ کر آتی ہے کہ گھر میں سوکن موجود ہے۔اس کی فطرت یہ بتا رہی ہے کہ ضرورت کے وقت وہ اس بات کو ترجیح دیتی ہے کہ دو عورتیں ایک خاوند کے ساتھ رہیں بہ نسبت اس کے کہ ایک عورت اکیلی تنہائی کی زندگی ہمیشہ ہمیش کے لئے کاٹے۔اس سلسلہ میں جب گفتگو کا موقع ملتا ہے تو بعض دفعہ بعض سوال کرنے والیاں یعنی پریس کانفرنسز کے موقع پر یہ سوال کرتی ہیں کہ پھر عورتوں کو بھی اجازت ملنی چاہئے تھی۔میں ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ دیکھو بیک وقت دونوں کو اجازت نہیں مل سکتی۔ضرورت تو یہ ثابت ہو رہی ہے کہ مردگھٹا کرتے ہیں۔عورتیں زیادہ ہوا کرتی ہیں اور اجازت خدا عورتوں کو دے دے تو مصیبت ہی پڑ جائے پہلے ہی مرد کم ہیں۔اگر عورتیں چار چار شادیاں کرنے لگ جائیں تو بھاری اکثریت مردوں کی بغیر شادی کے رہ جائے گی عذاب آجائے گا سوسائٹی پر۔اور اگر یہ کہو کہ نہیں انصاف سے کام لیا جا تا دونوں کو بیک وقت اجازت دے دی جاتی تو میں ان سے کہتا رہا ہوں کہ اچھا پھر حساب کرو بیٹھ کے۔فرض کرو تم نے اپنے خاوند کے علاوہ تین اور مردوں سے شادی کی اوران