اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 100 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 100

خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء حضرت خلیفتہ مسیح الرابع" کےمستورات سے خطابات بیوی سے کرے اتنی محبت دوسری بیوی سے بھی کرے اس لئے فرمایا اور اس کا شان نزول بھی یہی ہے کہ صحابہ نے جب اجازت کے دونوں طرف عدل کے پہرے دیکھے تو انہوں نے سمجھا کہ بظاہر اجازت دی ہے مگر ایک ہاتھ سے دی اور دوسرے سے واپس لے لی ہے۔اس پر قرآن کریم میں یہ تشریح نازل ہوئی کہ فی الحقیقت ان معنوں میں انصاف ممکن نہیں ہے کہ سو فیصدی برابر محبت ہو لیکن برابر محبت نہ ہونے کے باوجود حقوق برابر تقسیم ہوں گے، وقت برابر دیا جائے گا، توجہ برابر دی جائے گی جو نعمتیں خدا نے تمہیں دی ہیں تم ان میں دونوں یا دو سے زیادہ سب کو برابر شریک کرو گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا ایسا تقویٰ اختیار فرماتے تھے کہ آخری عمر میں جب کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کمزور ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ استطاعت نہیں تھی کہ ہر گھر میں باری باری جا کر رہیں اور توجہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا خیال رکھا جائے کسی ایسے گھر میں جہاں بیوی نسبتاً صحت مند ہے اور خیال رکھ سکتی ہے تو اپنی دوسری بیویوں کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کیا۔جب تک کسی بیوی نے خوشی سے اجازت نہیں دی اس وقت تک باقاعدہ اس کے گھر اپنا وقت تقسیم کر کے جاتے رہے۔جہاں تک دیگر مذاہب کا تعلق ہے۔عجیب بات ہے کہ یہ غیر مذاہب والے جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں ان کے مذاہب کا مطالعہ کریں تو بالکل برعکس صورت نظر آرہی ہے۔موسوی شریعت نے اس کی کھلم کھلا اجازت دی استثناء باب ۲۱ آیت ۵ اسلاطین ایک باب ۱۱ آیت ۳ کا مطالعہ کریں تو آپ حیران ہوں گے کہ یہ کھلی اجازت تو ہے اور کوئی پابندی عائد نہیں کی۔اور ان شرائط انصاف کا اشارہ بھی ذکر موجود نہیں جن کو قرآن کریم نے کھول کر بیان فرمایا ہے۔جن انبیاء کو یہ بہت ہی عظمت کا مقام خود دیتے ہیں جن سے آگے سارے نبوتوں کے سلسلے جاری ہوئے اور جن کے آگے نسل سے ان کے نزدیک دنیا کا منجی پیدا ہوا یعنی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام۔آپ جانتے ہیں ان کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں (پیدائش ۱۶ آیت ۴-۳) اور ( پیدائش ۲۵ آیت ۱) حضرت یعقوب علیہ السلام کی ایک سے زائد بیویاں تھیں دیکھئے ( پیدائش ۲۹ آیت ۲۲ تا ۲۴) اسی طرح ( پیدائش ۳۰ آیات ۴۷۳، ۱۰،۹) دو سموئیل باب ۳ آیات ۲ تا ۵ اور پھر دوسموئیل باب ۵ آیت ۱۳ میں حضرت داؤد کی بیویوں کا ذکر ملتا ہے اور یہ ذکر ملتا ہے کہ نانوے بیویاں تھیں۔اگر مردوں کے قومی کا یہ نقشہ بائبل کھینچ رہی ہے تو کسی بائبل کی طرف منسوب ہونے والے اور بائبل کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے والے کا ہرگز یہ حق نہیں ہے کہ چار بیویوں