نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 32 of 40

نزولِ مسیح — Page 32

۳۲ کریم میں مذکور ہے۔ہاں اس موقعہ پر مودودی صاحب سے یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ اگر ایک سوال حضرت عیسی علیہ السلام کرہ زمین پر ہی کسی جگہ مخفی ہیں تو پھر ان کے فرشتوں کے کندھوں پر منارۃ البیضاء کے پاس نازل ہونے والی حدیث کی آپ کیا تشریح فرمائیں گے۔کیونکہ وہ تو پھر زمین سے بر آمد ہونے چاہئیں۔آسمان سے تو نہیں آ خدا کے بندو! کیوں سیدھے طور پر یہ نہیں مان لیتے کہ نزول مسیح سے مراد حضرت عیسی علیہ السلام کے کسی مثیل کا آتا ہے اور دو فرشتوں کے کندھوں پر نازل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس مسیح موعود کو آسمانی مدد حاصل ہوگی۔وہ صاحب وحی و الہام ہو گا اور ملائکہ کا تائید یافتہ ہو گا۔تا ہر قسم کی الجھنوں سے بچ جاؤ۔خلاصہ کلام تو چونکہ سورۃ مائدہ کی آیت كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ دم فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّيْبَ عَلَيْهِمْ سے واضح اور روشن طور پر حضرت عیسی علیہ السلام کا وفات پا کر دوبارہ واپس نہ آنا ثابت ہے۔اس لئے نزول مسیح ابن مریم سے متعلقہ پیشگوئیوں میں ابن مریم کا لفظ بطور استعارہ تسلیم کرنا ضروری ہے کیونکہ جو شخص وفات پا جائے وہ بموجب نصوص قرآنیہ اس دنیا میں واپس نہیں آسکتا۔چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذلِكَ لَمَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ (المومنون: ۱۶ ۱۷) یعنی تم پھر اس کے بعد (یعنی پیدا ہونے کے بعد) ضرور مرنے والے ہو پھر یقینا تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔لیکن اگر یہ قانون بھی ہو تاکہ کوئی وفات یافتہ زندہ ہو کر اس دنیا میں واپس آسکتا ہے تو حضرت عیسی علیہ السلام پھر بھی واپس نہیں آسکتے کیونکہ قیامت کے دن فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّيْبَ عَلَيْهِمْ کے الفاظ میں وہ جو جواب دیں گے اس سے