نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 33 of 40

نزولِ مسیح — Page 33

ظاہر ہے کہ توفی کے بعد انہیں قوم میں دوبارہ آنے کا موقع نہیں ملا ہو گا۔کیونکہ وہ کہیں گے۔میری توفی کے بعد (اے خدا) ان پر تو ہی نگران تھا۔یعنی توفی کے بعد مجھے پھر قوم میں دوبارہ جانے کا موقع ہی نہیں ملا۔اور توفی سے پہلے کی حالت کا ذکر وہ كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ کے الفاظ سے کریں گے کہ میں ان کا اس وقت تک نگران رہا جب تک ان میں موجود رہا۔پس قوم میں موجودگی کے بعد ان کی جو توفی ہوئی اس سے قوم میں واپسی اور قوم کے بگڑنے کی حالت کے متعلق مشاہداتی علم رکھنے سے وہ انکار کر رہے ہیں۔لہذا اس آیت سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات روز روشن کی طرح ظاہر ہے۔اس لئے نزول ابن مریم کی پیشگوئی میں "ابن مریم " کا لفظ بطور استعارہ تسلیم کرنا ضروری ہوا۔وَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ علم معانی والے کہتے ہیں لا ایک اعتراض کا جواب اِسْتَعَارَةَ فِي الْأَعْلَامِ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ علم یعنی نام بطور استعارہ کسی صورت میں استعمال ہی نہیں ہو تا بلکہ مراد یہ ہے کہ استعارہ اس علم کے کسی خاص وصف میں ہوتا ہے۔جیسے کسی کو مٹی ہونے کی وجہ سے حاتم کہہ دیا جاتا ہے نیز دیکھئے ! ابو سفیان نے ہر قل قیصر روم کے دربار میں لقد امر أَمْرُ ابْنِ ابی کبشہ کے الفاظ میں آنحضرت تمام ایام کو جو ابن عبداللہ تھے۔استعارہ کے طور پر ہی ابنِ ابن كَبْشَةَ کہا ہے یہ روایت صحیح بخاری میں درج ہے۔اس جگہ ابو سفیان کی مراد یہ ہے کہ آپ ایک وصف میں ابن ابی کبشہ کے مثیل ہیں۔علاوہ ازیں صحیح بخاری میں ایک اور حدیث بھی موجود ہے جس میں رسول کریم فرماتے ہیں:۔مَا مِنْ مُوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَالشَّيْطَانُ يَمَسُّهُ فَيَسْتَهِلُ صَارِ خَامِنْ مَسَ الشَّيْطَنِ إِيَّاهُ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا