نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 31 of 40

نزولِ مسیح — Page 31

۳۱ مودودی تقیم صاحب مودودی صاحب کے نزدیک قرآن مجید کا بیان واضح نہیں القرآن جلد اول صفحه ۴۲۰ پر آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں:۔" قرآن نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ ان کو جسم روح کے ساتھ کرہ زمین سے اٹھا کر آسمان پر لے گیا اور نہ ہی صاف کہتا ہے کہ انہوں نے زمین پر طبعی موت پائی اور صرف ان کی روح اٹھائی گئی۔اس لئے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جاسکتی ہے نہ اثبات " ( تقيم القرآن جلد اول صفحه ۴۲۰ مطبوعہ مر کٹائل پریس لاہور طبع اول ۱۹۵۱ء) احباب کرام دیکھئے جناب مولوی مودودی صاحب اس عبارت میں آیت مبل رفَعَهُ اللهُ اللہ کی تفسیر میں خدا تعالٰی کی طرف کوئی سلجھا ہوا مضمون پیش کرنا منسوب کر رہے ہیں یا بے حد الجھا ہوا؟ جو خدا کی شان کے صریح منافی ہے۔مگر یہ الجھاؤ صرف مولوی صاحب موصوف کی طبیعت کا ہے ورنہ قرآن مجید کا یہ بیان بھی صرف ایک ہی پہلو رکھتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے باعزت طبعی وفات پائی۔مولوی مودودی صاحب کے نزدیک ان کی تفسیر کی رو سے از روئے قرآن مجید حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمان پر مع روح و جسم جانا تو قطعی نہ ہوا مگر کرہ زمین پر رہنا تو ان کے نزدیک قطعی ہے۔کیونکہ زمین پر تو وہ پہلے سے ہی قطعی طور پر موجود تھے۔پس مودودی صاحب اگر انہیں اب تک کہیں کرہ زمین پر ہی زندہ مانتے ہیں تو پھر انہیں ان کی تلاش کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ نے وہ زمین قرآن مجید میں وَأوَيْنَهُمَا إِلى رَبوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِيْنِ (المومنون (۵) کے الفاظ میں بتا دی ہوئی ہے۔پس ایسی پہاڑی وادیوں میں انہیں ان کی تلاش ضرور کرنی چاہئے کیونکہ رفع الی اللہ کے معنی آسمان پر جانا تو ان کے نزدیک معین نہیں اور کسی اونچے پہاڑی علاقہ میں ان کی ہجرت قرآن