نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 307
طلب ہے کہ وید کوئی خاص متحقق متعیّن شئے بھی ہے۔اس اختلاف پربحث کرنے کا یہ محل نہیںمگر یہ امرمسلّم ہے کہ وید علم صحیح کا نام ہے۔اس لیے وید کے معنی ہیں وہ چیز جس کے ذریعہ سے علم صحیح حاصل ہوتا ہے یا جس کے ذریعہ لوگ عالم ہوتے ہیں یا جس کے ذریعہ سکھ حاصل ہوتا ہے یا جس کے ذریعہ ہم سوچتے اور بچارتے ہیں۔اس معنی کے لحاظ سے تمام وہ ذرائع جن سے سچے علوم حاصل ہوتے ہیںوید ہیں۔سو قرآن کریم نے وہ تمام ذرائع صحیحہ واقعیہ بیان کر دئیے ہیں مثلاً فرمایا۔(البقرۃ :۲۸۳) تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔اللہ تعالیٰ خودتمھارا معلم ہو گا۔یہاں تقویٰ کو ذریعہ علم بتایا ہے۔تقویٰ کیا ہے عقائد صحیحہ۔راستبازی کے اقوال یا یوں کہیں ایمان بالغیب۔اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس سے دعا اور مخلوق کی بہتری کے لیے اپنے خداداد قویٰ اور زبان و اعضاء سے اور اموال سے کوشش کرنا۔پہلے معنی رکوع۶ پارہ۲ اور دوسرے معنی سورئہ بقرہ پار ئہ اول کے پہلے رکوع میںبیان کئے گئے ہیں اور ہم نے اپنی کتاب میں بہت جگہ ذکر کیا ہے۔دعا، دھیان و کوشش یہی ذرائع علم صحیح ہیں جن کی ہدایت اس آیت میں ہے۔(۲) (طٰہٰ :۱۱۵) اے میرے رب !مجھے علم میںترقی بخش۔(۳) اور فرمایا ہے۔(محمد :۲۵) وہ کیوںقرآن کو غور سے نہیں پڑھتے۔(۴) اور فرمایا: (العنکبوت :۷۰) جو لوگ بہت کوشش کرتے ہیں ہماری راہوںکے پانے میں ہم ان کو اپنی راہیں دکھادیا کرتے ہیں۔(۵،۶) اور ذکر الٰہی اور تفکر بھی علم صحیح کا باعث ہے چنانچہ فرمایا: (آل عمران:۱۹۱،۱۹۲)