نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 306
یہ باتیں جو اب تک کہی گئیں غیب کی خبروں سے جو وحی کی ہم نے ان کی تیری طرف تو نہیں جانتا تھا ان باتوں کو (کہ تیر اا ور تیرے اتبا ع کا انجام کیا ہوگا اور نہ اس سے پہلے تیری قوم جا نتی تھی کہ ان کا انجام کیا ہو گا ) ہاں صبر اور انتظار سے دیکھ۔بے ریب آخرمیدان متقی کے لیے ہے۔سوال نمبر۱۰۸۔انبیا ء کے چند ناموں کا ذکر ہے باقی کیوں نہیں ؟ الجواب:انبیاء و رسل اس قدر گزرے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (المدثر : ۳۲) اور فرماتا ہے : (المؤمن :۷۹) خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ہم نے تمام دنیا کے شہروں میں راستباز بھیجے ہیں۔پھر اس مشترک اور یکساں راستی کا ذکر کیا ہے جو تمام راستبازوں میں مسلم تھی اور جسے ان سب نے دنیا کو تبلیغ کیا اور نمونہ کے طور پرایک مخاطب قوم کے مسلم راستبازوں کا ذکر کیا اور ان کا نمونہ بتا کر یہ پُر تحدی اور پُر شوکت پیشگوئی کی کہ میری تعلیم بھی وہی تعلیم ہے جو کل راستباز دیتے آئے ہیں اور میں اسی طرح کامیاب ہوں گا جس طرح وہ سب راستبازکامیاب ہوئے جن کی کامیابی تمہارے نزدیک بھی مسلم ہے۔نادان معترض اتنا نہیں سوچتا کہ خدا کی کتاب بے فائدہ اسماء شماری کر کے ہزاروں جلدیں ان بے شمار نبیوں اور مصلحوں کے اسماء کی تدوین میں جمع کر دیتی تو مخلوق کو اس سے کیا سبق دیتی۔قرآن کریم کا یہ زریں اور بلند دعویٰ کافی ہے کہ کل راستبازوں کی ایک ہی تعلیم تھی اور میری وہی تعلیم ہے اور میںضرور کامیاب ہو جاؤں گا اور ایسا ہی ہوا کہ خدا تعالیٰ کا وہ آخری عظیم الشان نبی ہر قسم کی کامیابی کا تاج پہن کر دنیا سے رخصت ہوا۔سوال نمبر۱۰۹۔ویدوں کا ذکر کیوں قرآن میں نہیں؟ الجواب: قرآن تذکرۃ الکتب کی کتاب نہیں۔وہ علم الٰہی کی کتا ب ہے،کتنے رسائل یہودونصاریٰ کے پاس ہیں کسی کا ذکر نہیں۔صحف ابراہیم کا ذکر ہے اور وہ اب تک موجود نہیں۔یہ امر ہنوز فیصلہ