نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 308
یعنی نشان ہیں دانش مندوں کے لیے جو یاد رکھتے ہیںاللہ کو کھڑے اور بیٹھے اورلیٹے لیٹے اور تفکر کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں۔دیانند نے بھی لکھا ہے کہ رشی لوگو ں کو مراقبوں ،سمادھوں وغیرہ سے یہ سچے علوم حاصل ہوتے ہیں۔غرض وہ تمام سچے علوم قرآن کریم میں مذکور ہیں جو انسان کی فلاح دنیوی و اخروی کے لئے ضروری ہیں اور حقیقی وید کے یہی معنی ہیں۔اب بتاؤ ویدوں کا ذکر قرآن میںموجود ہے یا نہیں۔سوال نمبر۱۱۰۔قسم مت کھاؤ۔پھر خود گھوڑوں، ہواؤں وغیرہ کی قسمیں کھائی ہیں۔ہمالہ۔ایلپس۔بندھیاچل۔اڑد وغیرہ بھینس۔ہاتھی۔گنگا۔جمنا وغیرہ کی قسمیں کیوں نہ کھائیں۔دماغ میں نہ تھیں۔الجواب۔سنو!قسموںکا جواب تو مفصل سوال نمبر۱۴کے جواب میں موجود ہے پر تمہاری عادت ہے کہ تکرار اور بے وجہ تکرار کرتے ہو اور یہ تمہاری بے ایمانی ہے کہ تم نے تکرار کا عیب قرآن پر بے وجہ لگایا ہے نادان! تم کو ہمالہ، بندھیا چل، اڑد، بھینس، ہاتھی، گنگا ،جمنا یاد آئیں اور کشمیری۔کابلی۔چینی۔روسی وغیرہ کو اپنے اپنے ملک کے نظارے ہائے قدرت یا د آجائیں گے تو کیا قرا ٓن شریف تمام نظارہ ہائے قدرت کی تفصیل کرتا؟ پھران پر حوادث جدیدہ کی تفصیل کرتا جو روز مرہ نئے نئے واقع ہوتے ہیں مگر یہ تو بتاؤ کہ تمہارے منوجی اور یاگ ولک جی نے قسموں میں کیوں خصوصیت کی ہے۔منو ادھیا۸۔۸۸ گئو بیج اور سونا کی قسم دے کر دیشیہ سے پوچھے۔دیکھو خصوصیت ہے یا نہیں اور قرآن کریم میں تو (الحاقۃ :۳۹،۴۰)موجود ہے۔پھر یہ تو بتاؤ کہ دیانند نے وید سے جو شلیپ ودیا نکال کر دکھائیں۔وہ صرف وہی دکھائیں جو یورپ والوں میں موجود سنیں زیادہ کیوں نہ دکھائیں۔بات یہ ہے۔مناظرات قدرت کو دعاوی کے ثبوت میں وہاں تک پیش کیا جاتاہے جہاں تک مخاطب کی سمجھ پہنچ سکتی ہے۔فہم سے بالا تربات کرنا حکیم کاکام نہیں۔انبیاء اور رسل پھر اللہ جلشانہ جیسا علیم وحکیم کیوں ایسی لغو حرکت کرتا۔