نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 175 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 175

حصہ اول قربانی کا مسئلہ بھی عجیب وغریب مسئلہ ہے تمام دنیا میں بسائط عالم سے لے کر اعلیٰ مرکبات تک کی قربانی ہور ہی ہے اور ایشیا کا مذہبی دارالعلوم مع یورپ وقدیم امریکہ افریقہ اور پولنشیا کے اس کا عامل ہے مگر آج کل کی دنیا انکار کی طرف مائل ہے۔اوکسیجن ہر متنفس میں انسانی آرام کے لئے قربان ہوتی ہے۔کاربن درختوں کے لئے قربا ن ہوتی ہے۔کروڑوں من لکڑی اور کوئلہ اگنی دیوتا کے لئے اسٹیمروں۔ریلوں اور ورک شاپوں میں قربان ہوتاہے۔تب انسان کے سامان اگنی جی کی پرستنا پرہمیں ملتا ہے اور کہنے والے کہے جاتے ہیں قربانی لغو حرکت ہے اور ہمارے نزدیک تو ہر ایک چیز میں روح ہوتی ہے اور آریہ بھی درختوں میں روح مانتے ہیں۔ستیارتھ میں بحوالہ منوجی لکھا ہے جو نہایت درجہ کے تموگنی ہیں وہ درخت کیڑے مکوڑے کا جنم پاتے ہیں۔اس لئے درختوں کا کاٹنا اور اپنے کام میں لانا ایسا ہی ہوا جیسا حیوان کامارنا۔پس درخت کیوں قربان کئے جاتے ہیں اور انسان کی خاطر ان کی قربانی کیو ں جائز ہے۔عذر کیا جاسکتا ہے کہ ان کی روح بے ہوشی کی حالت میں ہے پس یہ قربانی اس لئے جائز ہے جیسے ستیارتھ پرکاش صفحہ ۶۰۲میںہے۔اپنے مطالب حل کرنے کو خوب عذر ہے بھلا اس دعویٰ کا ثبوت کیاہے۔کند مول وغیرہ چیزوںمیں رہنے والے جیون کو سکھ دکھ محسوس نہیں ہوتا۔دیکھو صفحہ ۵۹۹ تو کیا پھر بے ہوش کرکے قربان کر لیں اور اسی طرح بے ہوشی کے بعد قربانی کا فتویٰ آریہ سماج کیا دے گی؟پھر جب ہم غور کرتے ہیں تو حیوانی قربانی کامسئلہ بھی وسیع نظر آتا ہے۔ایک انسان کو ویدان کا مرض ہوتا ہے تو الٰہی کارخانہ میں ہزاروں ہزار ایسی دوائیں ہیںجن کو استعمال کرکے ان جانوروں کی قربانی اس مریض کے لئے کی جاتی ہے اور ہزاروں ہزار جانور اس ایک جان کی خاطر ہلاک کئے جاتے ہیں تب وہ جانور ہلاک ہو کرمریض انسان کو اورحکیم کو راحت بخش ہوتے ہیں۔صرف تقریریں بنانا قوت رحم کو ضرور جوش دیتا ہے مگر عملی حالت بتاتی ہے کہ انسان اپنی ضرورت و آرام