نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 174 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 174

سمجھو کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔  (الواقعہ :۱۸،۱۹)اور ان کے اردگرد عمر دراز بچے کوزوں اور لوٹوں اور خالص نتھرے صاف پانی کو لئے پھریں گے۔اور اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک بشارت ہے جو فتوحات ایران وروم میں اپنے جلال کے ساتھ ظاہر ہوئی۔جوان اور ادھیڑ شاہی خاندان کے شاہزادے اور شہزادیاں مسلمانوں کے خادم ہوئے۔مخلد ادہیڑ کو بھی کہتے ہیں جس کے بال سفید ہو گئے ہوں۔اور سن! حضرت زکریا فرماتے ہیں۔(مریم :۹)۔اے اللہ مجھے کب بچہ عطا ہووے اور ابراہیم علیہ السلام کی نسبت ارشاد ہے۔۔(الصّافات :۱۰۲) ہم نے ابراہیم کو خوشخبری دی ایک عقل مند بچہ کی اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں آیا ہے (الکھف :۷۵) موسیٰ اور خضر کے سامنے ایک جوان آیا اور خضرنے اس کو قتل کر دیا۔وغیرہ وغیرہ میں دیکھو۔اولاد اور جوانوں کو غلام کہا گیا ہے بلکہ قاموس میں لکھاہے کہ غلام وہ ہوتا ہے جس کی موچھیں نکل چکیں۔نیز تجھے خبر نہیں کہ عورت اور مرد میں جناب الٰہی نے قدرت میں مساوات رکھی ہی نہیں بچہ جننے میں جو تکالیف عورتوں کو ہوتی ہیں ان میں مردوں کا کتنا حصہ ہے کیا مساوات ہے؟ کیا قوٰے میں مساوات ہے ؟ ہرگز نہیں۔میں ہمیشہ حیران کہ مرد و عورت میں مساوات کا خیال کس احمق نے نکالا؟ سوال نمبر ۴۳۔قربا نی لغو حرکت ہے۔جس کا گلا کاٹ دیا جاوے وہ باعث آرام کیونکر ہو سکتاہے۔الجواب۔یہ کلمہ یاد رکھنا چاہیے کہ جس کا گلا کاٹ دیا جاوے وہ باعث آرام کیونکر ہو سکتا ہے۔قربانی کے مضمون کو ہم تین حصوں پر منقسم کرتے ہیں توکہ سہولت ہو اور آسانی سے جواب سمجھا جاوے۔