نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 176 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 176

کے لئے کس قدر جانوں کو قربان کرنا لابدسمجھتا ہے۔اس سے آگے چل کر دیکھیں تو سیاست مدن میں ادنیٰ آدمی اعلیٰ کے لئے ہمیشہ قربان ہوتا ہے۔سفر مینااور دیسی ادنیٰ سپاہی پہلے مارے جاتے ہیں پھر ادنیٰ افیسر اور اسی طرح درجہ بدرجہ اور بادشاہ کی نوبت نہیں آتی۔ہم نے ویدک احکام دکھائے ہیں ویدوں میں لکھا ہے کہ جس طرح بجلی بادلوں کو اور آگ بَن کے گھاس کو فنا کرتی ہے اسی طرح سپہ سالاروں کو چاہیے کہ مخالفوں کو ہلاک کر دیں۔دیکھو ہمار ا صفحہ ۱۰رگوید ۶۱۶۔بلکہ دیانندی خیال کے مطابق تو جانوروں اور مویشی بلکہ گائیوں اور آدمیوں کو بھوکا مار کر اپنی فتح واقبال کی خاطر قربان کرنا جائز ہے۔دیکھو ستیارتھ صفحہ ۲۱۱۔اور نوح کے وقت جل تھل کرنے پر اعتراض کہ بہت جیو اس وقت مارے گئے ہوں گے اور یہ ظلم ہے۔ایسے واقعات بیان کرنے والی کتاب خدا کی کتاب نہیں ہوسکتی۔کسی وقت مناسب سمجھے تو دشمن کوچاروں طرف محاصرہ کرکے روک رکھے اور اس کے ملک کو تکلیف پہنچا کر چارہ،خوراک،پانی اور ہیزم کو تلف وخراب کردے۔منو ۷۔۱۹۶۔دشمن کے تالاب شہر کی فصیل اور کھائی کو توڑپھوڑ دیوے۔رات کے وقت ان کو خوف دیوے اور فتح پانے کی تجویز کرے۔منو صفحہ۱۹۷ ذرہ ان الفاظ (ملک کو تکلیف پہنچاکر چارہ،خوراک،پانی،ہیزم کا تلف کرنا تالاب توڑ دینا)پر غور کرو۔کیانرم دل کے مناسب حال قواعد ہیں۔جیسے پال کا دل ہے۔آہ ! دوسرے مذہب کی تردید کے وقت کہنے کو انسان کو نرم دلی کا وعظ یاد آتا ہے مگر اپنے گھرکی ضرورتوں پر کیسے احکام جاری کئے جاتے ہیں اور جب اپنا نفع ونقصان ملحوظ ہو تو کن قوٰی سے کام لیا جاتاہے۔دھرم پال کا نرم رحیم دل اور جنگوں سے متنفر دیکھئے کیا تأویل گھڑتاہے یا ویدک مت کو ترک کرتا ہے مگر اغراض کے سامنے ایسے لوگ میری کیونکر سنیں گے!! انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی جلد۲۱صفحہ ۱۳ اور انسائیکلو پیڈیا ببلیکا جلد۴صفحہ ۴۱۸۷تا۴۲۴۰میں ہے۔ایران۔انڈیا۔یونان۔روم۔عرب۔افریقہ۔قدیم امریکہ اور روما میں قربانی کا عام رواج