نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 146 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 146

بھی جاتا ہے۔پھر اتنا کیا مشکل ہے۔یجروید اکتیسواں ادہیا کے پہلے اشلوک میں لکھا ہے وہ سب جگت کو النگہہ کر ٹھہرا ہے۔پورا ترجمہ ہم نے سوال نمبر۱۷میں لکھا ہے۔عرش اور آٹھ فرشتوں کے متعلق بھی سوال نمبر ۱۷ میں جواب دیا ہے۔سوال نمبر ۲۸۔مردے جاگ اٹھیں گے جو جلادئیے گئے جن کی راکھ اڑا دی گئی جن کو شیر بھی کھا گئے۔کیوں کر اٹھیں گے؟ الجواب۔توکیا آپ لوگ سزا وجزا کے قائل نہیں اور کیا جب آپ مر جائیں گے تو کیا آریہ کا پرمیشر معطل ہو جائے گا یا تمہارے سرسوتی نام ہادی نے جھوٹ بولا ہے جہاں کہا ہے؟ دیکھو جواب نمبر۲۲ ’’اور کیا مر کر جی اٹھنا غلط ہے اور جن کو آرین جلاتے ہیں وہ پھر نہیں اٹھیں گے اور کیا جب تم کو جلایا گیا تو تم بالکل فناہو جاؤ گے؟مجھے معلوم نہیں ہو سکتا کہ تم کس مذہب کے آدمی ہوکیونکہ تمام ایسے مذاہب جو خدا کے قائل ہیں مردوں کے جی اٹھنے سے منکر نہیں۔‘‘ سوال نمبر۳۰۔’’خدا ترازو لے کر بیٹھے گا۔خدا کو تکڑی بٹے کی کیا ضرورت پڑی۔اعمال کوئی مادی چیز ہیں۔‘‘ الجواب۔بٹے کا ذکر تو قرآن مجید میں نہیں اور نہ یہ کہ اعمال مادی ہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (الانبیاء :۴۸) اور ہم قیامت کے دن انصاف کی میزانیں رکھیں گے۔تم کیسے نادان ہو کہ میزان کو مادیات میں منحصر سمجھتے ہو۔میزان کو تم کیوں وسیع نہیں خیال کرتے۔دیکھو ! جب تم نے حساب پڑھا تھا اس وقت تم کو جمع کی میزان ، تفریق کی میزان،ضرب کی میزان،تقسیم کی میزان علم حساب میں نہیں بتائی گئی۔اس سے تم اندھے کیوں ہوئے اور کیوں میزان کی حقیقت میں غور نہیں کرتے کہ وہ بہت ہی وسیع ہو سکتی ہے ؟ پھر تم نے مذہب اسلام اور آریہ مت پر میزان نہیں لگائی اور ترک اسلام ایک رسالہ نہیں لکھا جس میں