نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 147
ان موازین کا تذکرہ کیا۔پھر وزن اعمال میں تمہیں بٹوں کا خیال کیوں پیدا ہوا؟ اب (الاعراف :۹) (یعنی جس کی میزانیں بھاری ہوں گی) اس کا بیان سن لو۔تمہاری ستیارتھ میں لکھا ہے ’’جب پاپ بڑھ جاتاہے اور پُن کم تو انسان کا جیئو حیوان وغیرہ نیچے درجہ کا جسم پاتا ہے اور جب دہرم زیادہ اور ادھرم کم ہوتاہے تو دیو یعنی عالموں کا جسم ملتا ہے اور جب پن پاپ برابر ہوتاہے تو معمولی انسانی جسم ملتا ہے‘‘۔صفحہ ۳۳۳ اب یہ بڑھنا اور گھٹنا پرمیشر کو کس طرح معلوم ہوا اور کیا یہ موازنہ نیکی اور بدی کا نہیں اور کیا پرمیشر نے ان اعمال کے لئے میزانیں قائم نہیں کی ہیں ؟ اے نادان تارک اسلام! تجھ پر افسوس کس نے تجھے سکھایا کہ تو آنے والے غضب سے ان زبان کی چالاکیوں سے بچ جائے گا۔؟ سوال نمبر ۳۱’’پہاڑروئی کی طرح اڑیں گے۔بھلا ہمالہ بھی اور یورپ امریکہ کے پہاڑبھی‘‘ الجواب۔ستیارتھ پرکاش کے صفحہ ۲۷۴۔آٹھویں سملاس کے ابتداء میںہے۔’’اے (انگ)انسان! جس سے یہ گونا گوں خلقت ظاہر ہوئی ہے جو اس کو قائم رکھتا اور فنا کرتا ہے اور جو اس دنیا کا مالک ہے۔جس محیط کل میں یہ سب دنیا اتپتی (پیدائش)سہتتی (قیام) پرلے (فنا) پاتی ہے وہ پرمیشور ہے۔اس کو تو جان اور دوسرے کو صانع کائنات نہ مان۔‘‘ پھر کہا ہے۔جس کے ہاتھ میں اس عالم کی پیدائش قیام اور فنا ہے وہی برہم جاننے کے لائق ہے۔اور کہا ہے کہ سب سو عالم پیدائش سے پیشتر تاریکی میں چھپاہوا بشکل رات ناقابل تمیز اور اکاش کی مثل تھا اور تجھ غیر محدود پرمیشر کے مقابل میںمحدود اور اس سے محاط تھان۔پھر سوچو!!! اس قادر کے مقابل یہ ہمالہ اور کہستان یورپ وامریکہ کیا ہستی رکھتا ہے۔آہ! تمہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا پتہ ہی نہیں اور معلوم نہیں کہ تم کس مذہب میں تھے اور کس میں ہو ؟کیا تمہاری خیالی پرلے اور مہاپرلے میں سب فنا نہ ہوں گے؟