نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 145 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 145

ایک آپ کا بیٹھناہے اور ایک کسی جانور کا بیٹھنا۔دیکھو اس بیٹھنے میں ایک جسم خاص کی ضرورت ہے۔مکان کی ضرورت ہے۔پھر کہا جاتاہے کہ یہ بڑا ساہوکار تھا مگر اب بیٹھ گیا ہے۔دیکھو یہ بیٹھنا اور طرح کا ہے یا کہا جاتا ہے کہ آج کل ہندو انگلستان کے تخت پر ایڈورڈ ہفتم بیٹھا ہے۔اس بیٹھنے میں ایڈورڈ سوتا ہو،چلتا ہو،کہیں کھڑا ہو،بہرحال بیٹھاہے۔اب اس سے بھی لطیف موصوف اور فاعل کا حال سنو۔تمہارے دل میں اسلام کا بغض بیٹھ گیا ہے۔تمہارے دل میں آریہ سماج کی محبت بیٹھ گئی ہے کیا محبت کوئی جسم ہے؟نہیں۔اسی طرح آنا اور حرکت کرنا ایک صفت اور فعل ہے۔فلانا آدمی آیا۔یہ آنا ایک طرف ایک مکان کے چھوڑنے کو چاہتا ہے اور دوسری طرف ایک مکان کی طرف آنے کو۔سرور میرے دل میں آیا۔علم میرے قلب میں آیا۔مجھے سکھ ملا۔اگر بولا جاوے تو یہ لازم نہیں آتا کہ سرور اور علم اور سکھ کوئی جسم ہے اور اس نے کوئی مکان ترک کیا اور سنو! تمہارے گرو نے تو اپنی دعاؤں میں الٰہی حرکت کو بھی مانا ہے دیکھو صفحہ نمبر۴ستیارتھ پرکاش۔’’اے پرمیشور جس جس مقام سے آپ دنیا کے بنانے اور پالنے کے لئے حرکت کریں اس اس مقام سے ہمارا خوف دور ہو۔‘‘ سنو ! پال اگر پرمیشر حرکت کر سکتا ہے تو ملائکہ (دیو)تو محدود ہوتے ہیں ان کا حرکت کرنا کیوں حیرت انگیز ہے؟ اگر حرکت کے کوئی معنی سماج کر سکتی ہے اور روپک النکار میں اس کو لے سکتی ہے تو قرآن کریم میں مسلمان کیوں مجاز نہیں کیا جاتا۔اللہ تعالیٰ اپنے مظاہر قدرت میں جلوہ گری کرتاہے وہ حلول و اتحاد سے منزہ وراء الوراء مظاہر قدرت میں اپنی قدرتوں، طاقتوں بلکہ ذات سے جیسے اس کی لیس کمثلہ ذات اور انوپیم کی شان ہے۔آتا ہے اور کہیں سے جاتاہے۔کیا جیسے ودوان دہارمک کے ہردے میں آتاہے۔ویسا ہی دشٹ اناڑی کے ہردے میں بھی ہوتا ہے اور آتاہے۔ہرگز نہیں بلکہ تمہارے ہاں تو پھاند کر