نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 126 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 126

جگہ آتما یعنی پرمیشر ہے۔جبرائیل کے اصل معنی جَاوَراَیل ہیں یعنی خدا کا قریب جس طرح تمہاری یہاں آگ قاصد ہے اور ہوم کے ذریعہ تم لوگ(ہب)کستوری۔گھی۔شہد اور خوشبودار چیزیں وغیرہ اگنی دیوتا کے ذریعہ اور دیوتاؤں کو پہنچاتے ہو اور ان سے نفع حاصل کرتے ہو یا حصول منافع کا خیال کرتے ہو۔اس کے بالمقابل انبیاء ورسل اور ان کے ابتاع اولیاء اللہ (یوگی جن)اپنی محنتوں عبادات وذکر الٰہی توجہات اور مراقبوں سے سچے علوم حاصل کرتے ہیں۔اور جناب الٰہی ان مظاہر قدرت کو انبیاء ورسل واولیاء کے لئے مفید بناتاہے ان میں سے یہ جبرائیل ہے۔تمہارے ہوم اور ہب سے مخلوق دیوتا اگر پرسن ہو سکتے ہیں یا نافع بن سکتے ہیں تو ذکر الٰہی اور عبادت سے خالق دیوتا پرسن ہو کر مکالمہ کا شرف بخشتا ہے اور جبرائیل آدی دیوتا وسائط ہوتے ہیں۔سوال پنجم۔عیسیٰ آسمان پر اڑ گئے۔جواب۔عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نہیں اڑے۔قرآن کریم اس کی تکذیب کرتا ہے۔قرآن ایک کلی قاعدہ ہر ایک ذی حیات کے لئے باندھتاہے اور اس قاعدہ کلیہ سے کسی کو مستثنیٰ نہیں کرتا۔اس کے خلاف اعتقاد رکھنے والا قرآن کریم میں بتائی ہوئی خدا کی سنت کا مکذب اور بے ایمان ہے۔وہ آیت یہ ہے۔(المرسلات:۲۶،۲۷) ہم نے زمین کو مردوں اور زندوں دونوں کو اپنی طرف جذب کرنے والی بنایا۔اس کی کشش ثقل کسی کو اپنے اندر اور اپنے اوپر لینے اور رکھنے کے سوا چھوڑتی ہی نہیں۔پھر خدا تعالیٰ نے اسی اپنی سنت کو حضرت خاتم النبیین ﷺکے ایک نمونہ سے اور بھی صاف کر دیا جب کفار مکہ نے آپ سے سوال کیا کہ تو آسمان پر چڑھ جا تو خود خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کو ارشاد کیا کہ یوں جواب دو (بنی اسرائیل :۹۴) تو کہہ میرا رب ایسے ناجائز سوالوں کے جواب اور ایسی لغو حرکات سے پاک ہے کہ اپنی سنت کو توڑے۔یہ ا س کی مصلحت کے برخلاف ہے۔میں تو بشر رسول ہوں اور بشر