نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 125
اب اصل حقیقت سنو کہ قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے اس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر چارہیں جو وید کے رو سے چار دیوتے کہلاتے ہیں مگر قرآنی اصطلاح کے رو سے ان کانام فرشتے بھی ہے اور وہ یہ ہیں۔اکاش جس کا نام اندر بھی ہے۔سورج دیوتا جس کو عربی میںشمس کہتے ہیں۔چاند جس کو عربی میںقمر کہتے ہیں۔دہرتی جس کو عربی میں ارض کہتے ہیں۔یہ چاروں دیوتا جیسا کہ ہم اس رسالہ میں بیان کر چکے ہیں خدا کی چار صفتوں کو اس کے جبروت اور عظمت کا اتم مظہر ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں عرش کہاجاتا ہے اٹھارہے ہیں یعنی عالم پر یہ ظاہر کر رہے ہیں تصریح کی حاجت نہیں اس بیان کو ہم مفصل لکھ آئے ہیں اور قرآن شریف میں تین قسم کے فرشتے لکھے ہیں۔(۱)ذرات اجسام ارضی اور روحوں کی قوتیں (۲)اکاش۔سورج چاند زمین کی قوتیں جو کام کر رہی ہیں۔(۳)ان سب پر اعلیٰ طاقتیں جو جبرئیل ومیکائیل وعزرائیل وغیرہ نام رکھتی ہیں جن کو وید میں جم لکھاہے مگر اس جگہ فرشتوں سے یہ چار دیوتے مراد ہیں یعنی اکاش اور سورج وغیرہ جو خدا تعالیٰ کی چار صفتوں کو اٹھا رہے ہیں۔یہ وہی چار صفتیںہیں جن کو دوسرے لفظوں میں عرش کہا گیا ہے۔اس فلسفہ کا وید کو بھی اقرار ہے مگر یہ لوگ خوب وید دان ہیں جو اپنے گھر کے مسئلہ سے بھی انکار کر رہے ہیں۔اخیر میں سنو۔بہولوگ۔انترکش۔برہم لوگ جس کا ذکر منو ۲۔۲۳۳میں ہے اس کے اوپر کس کی حکومت ہے۔سوال چہارم۔جبرائیل ملک ہے۔دیوتا ہے۔ملائک اور دیوتا کے متعلق تمہارے گرودیانند کا یہ مذہب تھا کہ وہ مظاہر قدرت ہیں۔دیکھو وید بھومکا صفحہ ۴۳۔اس کے علاوہ (خدا کے)اور جس قدر دیوتا بتائے گئے ہیں یا آگے بیان کئے جائیں گے وہ سب اسی ایک آتما کے (پرمیشور)پرتی انگ (مظاہر اجزاء قدرت)ہیںکیونکہ وہ اس کے ایک ایک انگ (قدرت کی جزو) کو ظاہر کرتے ہیں انتہیٰ ان دیوتا کا قیام (رتھ۔رمن)ٹھہرنے کی