نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 127 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 127

رسول کا آسمان پر بجسم عنصری جانا سنن الٰہیہ کے خلاف ہے۔سوال ششم۔ہمارے نبی کریم براق پرسوار ہوئے اور خدا سے بات چیت کی اور آسمانوں کی سیر کو گئے اس پر ہنسی اور تمسخر کیاہے۔الجواب۔یہ سب امور حق ہیں ان کی معانی کے لئے اس علم کی لغت کو دیکھو جس کو علم الرؤیا کہتے ہیں۔علم الرؤیا کی معتبر کتاب تعطیر الانام میں لکھا ہے۔جو کوئی دیکھے کہ براق پر سوارہوا وہ مراتب عالیہ پر پہنچے گا اور اس کو سفر میں عزت ملے گی اور جہاں سے گیا وہاں باعزت واپس ہوگا۔چنانچہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہوا کہ آپ مکہ سے نکلے اور پھر کس شان کے ساتھ جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں بامراد اور منصور مکہ میں داخل ہوئے۔پھر اسی میں لکھا ہے جو دیکھے کہ وہ پہلے آسمان پر گیا اس کی عمر بہت بڑی نہ ہو گی اور جو دوسرے پر جاوے وہ عالم وحکیم ہو اور جو تیسرے پر جاوے اس کی عزت واقبال زیادہ ہو اورجو چوتھے پر جاوے وہ بادشاہوں کی نظروں میںمعزز ہو اور جو پانچویں پر جاوے اس کو جزع وفزع اور مشکلات پیش آویں اور جو چھٹے پر پہنچے اس کو سعادت وجاہ حاصل ہو اور جو جنا ب الٰہی کا درشن کرے اس کا انجام بخیر ہو۔یہ ساری باتیں جو عزت اور جاہ اور علو اور انجام بخیر اور کامیابی کے متعلق ہیں وہ سب ہمارے نبی کریم ﷺ کے حق میں احسن و جہ سے پوری ہوئیں۔یہ سیر آسمان ایک مکاشفہ ہے اس کی تاویل و تعبیر اسی علم کی کتابوں میں دیکھنی چاہیے۔افسوس تم پر ! تم نے خواہ مخواہ اعتراض کا ٹھیکہ لے کر ثابت کر دیا ہے کہ کسی سچے علم سے تمہیں کوئی مناسبت نہیں اور التزام کر لیا ہے کہ ہر ایک حق اور حقیقت کا انکار کر دیا جاوے۔کون سی قوم ہے جو علم مکاشفہ سے انکار کر سکتی ہے اور اس مکاشفہ کا تو انکار ہو بھی نہیں سکتا کیوں کہ واقعات نفس الامر یہ نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔پھر یاد رکھو کہ معراج فقط ایک خواب ہی نہیں بلکہ حقیقی معراج تو حضور کی فطرت میں موجود تھا فداہ ابی وامی صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ معراج اس حقیقت کا اظہار تھا اور اعلیٰ اظہار تھا اور واقعات نے اس پر مہر لگا دی۔