نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 121 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 121

دوسرا طریق۔حضرت مسیح علیہ السلام کو اور ان کی والدہ ماجدہ کو یہود لوگ برے کہتے ہیں اور کہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں فرمایا ہے کہ حضرت مسیح توہماری جانب سے اور ہماری طرف سے ایک پاک روح تھی جو ہمارے حکم سے پیدا ہوئی اور ان کی والدہ بھی صدیقہ تھیں۔پاک روحیں اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت پانے کی زیادہ تر مستحق ہیں۔اس بات کا ثبوت کہ قرآن میں روح کلام الٰہی کو کہتے ہیں یہ ہے۔(الشورٰی:۵۳) (النحل:۳) سوال نمبر ۱۷: ’’(۱)خدا زمین و آسمان پر کرسی نشین ہے گویا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔(۲)عرش پر ہے۔(۳)اس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھایا ہواہے۔(۴)جبرائیل خدا سے نازل ہوتا ہے۔(۵)عیسیٰ آسمان پر اڑ گئے (۶)محمد ؐ عربی براق پر سوارہو کر آسمانوں کی سیر اور خدا سے باتوںکے لئے گئے۔(۷) شیطان چھپ کر آسمانوں کی باتین سنتے ہیں(۸)فرشتے ستارے توڑ کر شیاطین کو مارتے ہیں‘‘۔الجواب۔یہ ایک سوال ہے جس میں آٹھ سوال ہیں اور بعض سوال ایسے ہیں کہ ان پر تفصیل چاہیے۔مگریہ رسالہ جس قدر گنجائش دے گا اس کے مناسب حال لکھتے ہیں۔پہلا سوال محض غلط فہمی اور علوم الٰہیہ حقہ سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔کیونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ تمام آسمانی مذاہب اس پر متفق ہیں۔ہاں تارک اسلام کو علوم اسلامی سے نابینائی کی وجہ سے کرسی سے ٹھوکر لگی اور منہ کے بل جہالت کے گڑھے میں گر اہے۔سنو!ہماری مکرم کتاب صحیح بخاری میں جسے ہم کتاب اللہ کے بعد اصح الکتب مانتے ہیں لکھا ہے۔کرسیّہ علمہ یعنی کرسی کے معنی علم کے ہیں پس معنی (البقرۃ :۲۵۶)کے یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا علم تمام بلندیوں اور زمین کو وسیع ومحیط