نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 122 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 122

ہو رہا ہے۔اب بتاؤ اس مسئلہ میں جو مذاہب اللہ تعالیٰ کے ماننے والے ہیں اور صفات الٰہیہ کے منکر نہیں۔ان میں کس کو کلام اور بحث ہے۔سوال دوم پر الزامی جواب کو اور سوال سوم کے الزامی کے بعد حقیقی جواب کو ملاحظہ کرو تمہارے یجروید اکتیسویں ادھیائے میں لکھا ہے۔دیکھو نمبر ۱’’اسے منشو سب پرانیوں کی ہزاروں آنکھیں ہزاروں پاؤںجس سروتر بیاپک جگ ویشور میں ہیں وہ پرش ہے وہ تمام بھوگول میں سب طرف سے بیاپت یہ پانچ استہول(عناصر خمسہ۱۲) پانچ سوکہشم(حواس ۱۲) یہ دس بہوت جس کے انگ ہیں اور وہ سب جگت ۱؎ کو اولنگھ کر ٹھہراہے۔اور منتر نمبر۳۔اس ایشور کی سب زمین وغیرہ چراچر جگت (کل مخلوق۱۲)ایک جزو ہیں اس جگت بنانے والے کے تین حصہ ناش رہت مہما اپنے منورسروپ میںہے۔اور کہا ہے نمبر۴تین حصوں والا پرمیشور سب سے اور تم سنسار سے الگ مکت سروپ نکلتا ہے اس پرش کا ایک حصہ سے ایک جگت میں پھر ہر پیدائش اور پرلے کا چکر کھاتا ہے۔نمبر ۵میں ہے۔’’اس براٹ سنسار کے اوپر سردار پورن برہم رہتاہے اس کے بعد بھی وہ پہلے سے ظاہر پرش جگت سے علیحدہ رہتا ہے۔‘‘غرض سترہ منتر تک یہی مضمون مکرر کیا گیاہے۔پہلے منتر میں یہ لفظ کہ وہ سب جگت کو اولنگھ کر ٹھہراہے منصف انسان کے لئے قابل غور ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ خدا پر میشر سب جگت کو پھاند کر ٹھہرا ہے اور تیسرے منتر کا مطلب ہے کہ خدا پرمیشور کے چار حصہ ہیں ایک حصہ مخلوق میںاور تین حصہ بالاتر ہیں اور نمبر۴ کامطلب ہے کہ پرمیشور سنسار سے الگ ہے اور اس کے تین حصہ خلق سے بالاہیں اور نمبر۵میں ہے اوپر پورن برہم رہتاہے۔اور دیوتہ۔امرت ناتسو ناس ترتسئے دہام لوگ ندہیر تم کا مطلب اور عرش پر ہے کا مطلب اگر ایک نہ ہوتو ہم ذمہ وار ہیں۔تمام مخلوق کو کود کر