نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 120
اور آپ کے یہاں تو پیدائش کا طریق ایسا لکھا ہے جس کی دلیل ہی مفقود ہے۔دیکھو ستیارتھ صفحہ۲۹۰۔’’پرکرتی سے اکاش اکاش کے بعد وایو۔وایو کے بعداگنی۔اگنی کے بعد جل۔جل کے بعد پرتھوی۔پرتھوی سے نباتات۔نباتات سے اناج۔اناج سے نطفہ۔نطفہ سے انسان۔‘‘ کیوں دھرم پال یہاں بھی کچھ ستۃ ایام کا پتہ لگ سکتا ہے کہ نہیں اور ہر ایک کمال چھ مراتب طے کرنے کے بعد کامل ہوا کرتا ہے۔اور آج کل تو پرائمری ،مڈل۔انٹرنس۔ایف اے۔بی اے۔ایم اے۔یہ بھی چھ مراتب ہی رکھے گئے ہیں اور یوم کے معنے وقت کے بھی ہیں۔سوال نمبر ۱۶۔’’خدا کی روح عورت کے رحم میں جا سکتی ہے‘‘ الجواب۔او بے حیا !جب خود تمہارا خدا ہر جگہ ہے تو کیا عورت کے رحم میں نہیں اور کیا اس کی روح وہاں سے الگ ہے۔سن! تمہارے دیانند گرو نے ستیارتھ میں لکھا ہے۔پرمیشر کا نام ہے۔کھم۔اور یہ پرمیشور کانام اس لئے ہے کہ بمثل خلا محیط ہے۔پھر کیا رحم میں خلا نہیں۔وشنو۔ہر جگہ محیط ہونے کے باعث وہ وشنو ہے۔بلارکاوٹ محیط ہونے کے باعث برہم ہے۔نیز اگر پر میشور اندر بھی ہے اور باہر بھی تو بہ نسبت دیانند کے ہاتھی اور وہیل مچھلی میں زیادہ ہو گا تو یہ چیزیں دیانند سے اچھی ہوئیں۔اور اصل بات یہ ہیہر ایک عمدہ چیز اور پاک شئے کو الٰہی شئے کہا جاتا ہے اسی واسطے تم لوگ ویدوں کو الٰہی کتب۔الٰہی علم اور ان کے جاننے والوں کو الٰہی علماء کہتے ہو۔اور مسلمان الٰہی کلام کو بھی روح کہتے ہیں۔(الا نبیاء :۹۲) کے معنے ہوئے کہ حضرت مریم میں … الٰہی کلام کو پہنچا دیا۔اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کی نسبت بھی (صٓ :۷۳) آیا ہے جس کا ترجمہ ہے اور جب میں اپنا کلام اس میں پہنچا دوںیا پھونک دوں۔اس کی تفصیل آدم کے قصہ میں آتی ہے۔