نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 88
اگر بدکاری ،نافرمانی اور شرارت کا بدلہ نیکی حاصل ہوتو تمام لوگ چاہیے کہ بدکاری کریں تاکہ نیک ثمرات حاصل کریں مگر ایسا نہیں ہوتا۔تحقیقی جواب اصل بات یہ ہے کہ جب ہمارے نبی کریم اور رسول رؤف رحیم ﷺ مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو چند دشٹ۔منافق۔دل کے کمزور جن میں نہ قوت فیصلہ تھی اور نہ تاب مقابلہ آپ کے حضور حاضر ہوئے اور بظاہر مسلمان ہوگئے اور آخر بڑے بڑے فسادوں کی جڑ بن گئے۔وہ مسلمانوں میں آکر مسلمان بن جاتے اور مخالفان اسلام کے پاس پہنچتے تو مسلمانوں کی بدیاں کرتے جہاں سے آپ نے یا آپ کے کسی پیشوا نے (البقرۃ :۱۱) کا فقرہ نقل کیا ہے۔وہاں یہ سارا ماجرا مفصل لکھا ہے۔اس شریر گروہ کے متعلق یہ آیت ہے جس کو آپ نے نقل کیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سردست جماعت اسلام تعداد میں بہت ہی قلیل اور تھوڑی سی ہے اور مسائل اسلام بھی جو پیش ہوئے ہیں بہت کم ہیں۔یہ بدبخت منافق اگر اس قلیل جماعت کے سامنے تاب مقابلہ نہیں لا سکتے اور اپنے دل کی مرض سے بزدل ہو کر مسلمانوں کی ہاں میں بظاہر ہاں ملاتے ہیں تو یاد رکھیں ان کا یہ کمزوری کا مرض اور بڑھے گا کیونکہ یہ جماعت اسلام روز افزوں ترقی کرے گی اور یہ موذی بدمعاش اور بھی کمزور ہوں گے اور ہوں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔نیز اسلام کے مسائل روز بروز ترقی کریں گے جب یہ لوگ تھوڑے سے مسائل کا فیصلہ نہیں کر سکتے تو ان مسائل کثیرہ کا کیا فیصلہ کر سکیں گے جو یوماً فیوماً روز افزوں ہیں بہرحال ان کا مرض اللہ تعالیٰ بڑھائے گا اور اسلام کو ان کے مقابلہ میں ترقی دے گا۔ہاں رہی یہ بات کہ یہ سزا ان کو کیوں ملی تو اس کا جواب بھی سچ ہے کہ ان کے اپنے اعمال کا بدنتیجہ تھا اس میں قرآن کریم کا ارشاد یہ ہے۔(الشورٰی :۳۱)یعنی