نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 89 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 89

تمہیں ہر ایک مصیبت اپنے ہاتھوں کی کرتوت کے سبب سے پہنچتی ہے۔عمدہ غذا، ہوا اور بہار کا مزہ تندرست کو ملتا ہے نہ بیمار کو۔یہ قانون قدرت ہے۔سوال نمبر۴۔خدا بڑا لڑاکا ہے۔بھلا جب خدا ہی لڑاکا ہو گیا تو پھر زمین پر صلح وامن کون قائم کر سکتا ہے۔لڑاکا شخص خدا کو بھی لڑاکا کہہ سکتا ہے۔الجواب۔پھر اگر تمہارا پرمیشر لڑاکا نہیں تو اس کانام رُدّر کیوں ہے۔رُدّر کے معنے ہیں رلانے والا۔دیکھو ستیارتھ صفحہ ۱۹۔اور بتاؤ تو سہی کہ باہم لڑنے والے حیوان وانسان کس نے بنائے۔اگر وہ لڑاکا نہیں تو یہ احکام آپ کے وید میں کس نے بیان کئے۔’’کشتری لوگوںکے واسطے جنگ کے موقع پر ایک ہاتھ سے روٹی کھاتے اور پانی پیتے جانا اور دوسرے ہاتھ سے دشمنوں کو گھوڑے۔ہاتھی۔گاڑی پر سوار ہو کر یا پاپیادہ مارتے جانا اور ا پنی فتح کرنا ہی آچار اور مفتوح ہوجانا اناچار ہے‘‘پھر اس پر چَو کے کی کچھ مذمت بھی کی ہے دیکھو ستیارتھ صفحہ ۳۵۵ اور خاص الخاص ارشاد وید کا یہ ہے جو دشمنوں میں پھوٹ ڈلوانے کی تاکید پر مشتمل ہے۔’’۱؎سبھا دہکش کو چاہیے کہ شانتی بچن کہنے دشٹوں کو ڈنٹ دینے اور شستروں کو پر سپر پھوٹ کرانے کی کریا یونسی نیتی کو اچھے پرکار پراپت ہو کے پرجاجنوں کے دکھ کونت دور کرنے کے لئے اوم کرے‘‘ رگوید بھاش صفحہ ۱۶۶۱ اب بتائیے پھوٹ ڈلوانا لڑاکوں کاکام ہے یا نہیں ؟اور یہ ویدکا ارشاد ہے یا نہیں۔’’سبہا دہکش آدمی راج پرشوں (بادشاہ سپہ سالار سے لیکر تمام ممبران سلطنت)اور پرجاکے منشوں (رعایاکے لوگوں)کو چاہیے کہ جس پر کار اگنی آدی پدارتھ (آگ اور آگ جیسے سامان)بَن آدی کو (جنگل وغیرہ کو)بھسم (خاکستر)کر دیتے ہیں ویسے ہی دکھ دینے والے شترو جنوں کے بناش(تباہ) کے سپہ سالار۔چکنی چپڑی۔بات۔بُروں کو سزا۔مخالفوں۔افعال۔سیاست۔