نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 87
گے بڑے ارادے اور میں بھی ۱؎ ارادہ کرتاہوں بڑا ارادہ۔باقی ترجمہ بالا رہا۔ان دعووں اور تحدّیوں کو دیکھو کس طرح پورے اور حرفاً پورے ہوئے۔مخالفان اسلام نے کیسے کیسے خطرناک ارادے۔تدابیر۔حیلے اور کوششیں اور بڑے بڑے جنگ اسلام کو دنیا سے اٹھا دینے کے لئے کئے اور کس طرح اقوام عرب۔یہود۔مسیحی۔مجوس او ر خود وہ قوم جو نبی کریم کی ہم شہر اور رشتہ دار تھی جان توڑ کر سعی کر رہی تھی مگر الٰہی ارادہ نے کس طرح سب کو خا ک میں ملادیا لیکن اس کے خلاف غور تو کرو! تبت میں آریہ سے ڈشٹوں نے جنگ کی مگر آریوں کی تمام شلپ ودّیا(فنون جنگ کا علم) بیکار ہو گئی اور آخر وہ ملک چھوڑ کر غیر ملک انڈیا میں ان کو آنا پڑا اور اب تک پھر وہ تبت کا ملک فتح نہ ہو سکا۔بخلاف اس معاملہ کے بانی اسلام سے جن منکروں نے تدابیر اور ارادہ بدسے مقابلہ کیا وہ سب ملیا میٹ ہو گئے۔اب دیکھ لو کہ تمام بلاد عرب اور اس کے نواحی میں اسلام کا جھنڈا لہراتا ہے جیسے قرآن کریم نے فرمایا: ۲؎ (الفیل :۳) اس آیت پر سوال نمبر۱۱۶کے دوسرے حصہ میں مفصل بحث ہے۔سوال نمبر۳۔’’(البقرۃ:۱۱)روحانی بیماری بڑھاتا اور عذاب بھی دیتا ہے۔یہ بے رحمی اور ظلم ہے۔‘‘ جواب ۳۔انسان کو تمہارے دیانند نے خود مختار مانا ہے۔دیکھو ستیارتھ صفحہ۲۵۰ اور سزاؤں میں تابع مرضی الٰہی قرار دیا ہے۔دیکھو صفحہ سابق اور نویں سملاس کے نمبر ۳۸صفحہ ۳۳۳میں لکھاہے کہ ’’جیو یکساں ہیں مگر پاپ اور پن کی تاثیر سے ناپاک اور پاک ہوتے ہیں‘‘ پھر لکھتاہے ’’جب پاپ بڑھ جاتا ہے اور پن کم ہو تا ہے تو انسان کا جیو حیوان وغیرہ نیچے درجہ کا جسم پاتاہے‘‘تو اب آپ انصاف سے کہیں کہ روحانی امراض کا نتیجہ نیک ہو ا یا بد ہوا؟ جیسے وَمَا کَادُوْا یَفْعَلُوْن۔میں ہے ان کو کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔۱۲ ۲؎ کیا نہیں کر دیا ان کی تدابیر کو انہیں کے ہلاک کا باعث۔