نُورِ ہدایت — Page 982
یمین سے غلہ آتا تھا یا مدینہ اور اس کے نواحی علاقہ سے آتا تھا بلکہ بعض دفعہ شام سے بھی لانا پڑتا تھا۔زیادہ تر یمن سے ہی مگہ میں غلہ آتا تھا۔اسی طرح کبھی کبھار حبشہ سے بھی آجاتا تھا۔پس أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوع میں اللہ تعالیٰ اس امر کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ تمہارا جائے وقوع ایسا تھا کہ تمہیں معمولی روٹی بھی کھانے کے لئے میسر نہیں آسکتی تھی مگر ہم نے محض اپنے فضل سے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ تمہیں بافراغت کھانا میسر آ گیا اور تم بھوک کی تکلیف سے بچ گئے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں من الجوع نہیں فرمایا۔اگر من الجوع ہوتا تو اس کے معنے محض بھوک کے ہوتے مگر من جوع کے یہ معنے ہیں کہ ایسی شدید بھوک جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے امنَهُمْ مِّنَ الْخَوفِ نہیں فرمایا بلکہ امَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ فرمایا ہے۔اس میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے صرف خوف دور نہیں کیا بلکہ ایسا شدید خوف دور کیا جس نے تمہاری بنیادوں کو ہلا دیا تھا۔غرض تنوین چونکہ تعظیم کے لئے آتی ہے اس لئے من جوع کے یہ معنے ہوں گے کہ ایسی بھوک جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔اور من خوف کے یہ معنے ہوں گے کہ ایسا خطر ناک خوف جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔چنانچہ اصحاب الفیل کے واقعہ میں میں تفصیل کے ساتھ بیان کر چکا ہوں کہ حضرت عبد المطلب نے ابرہہ سے صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ ہم میں تم سے لڑنے کی کوئی طاقت نہیں۔اگر یہ خدا کا گھر ہے تو وہ آپ اس کو بچاتا پھرے۔پھر ہذیل اور بنو کنانہ نے بھی متفقہ طور پر غور کرنے کے بعد اہل مکہ کو یہی مشورہ دیا تھا کہ ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتے تم ابر ہ اور اس کے لشکر کے سامنے ہتھیار ڈال دوتا کہ وہ جو چاہے کرلے۔یہ کتنا بڑا خوف ہے کہ ایک قوم کی قوم ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہوگئی۔یہی حکمت ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے یہاں من الخوف نہیں بلکہ مِنْ خَوْفٍ فرمایا ہے۔یعنی میں نے ایک عظیم الشان خوف سے تم کو بچایا۔لیکن جہاں تنوین تعظیم کے لئے آتی ہے وہاں عربی زبان میں تنوین تحقیر کے لئے بھی 982