نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 981 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 981

م اس آیت نے سورۃ الفیل کی آخری آیت کی طرف اشارہ کر کے ہمیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ لا يُلفِ قُريش الفِهِمْ رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيْفِ کے جو مختلف معانی کئے گئے ہیں وہ سب کے سب درست ہیں۔یعنی اس سورۃ میں ایک مستقل مضمون بھی بیان کیا گیا ہے اور اس میں پہلی سورۃ کے مضمون کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ نے سورة ایلاف کے مستقل مضمون کی طرف اشارہ کر دیا اور امتهُم مِّن خَوْفٍ نے سورۃ الفیل کی طرف اشارہ کر دیا۔گویا یہ بھی درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ایلاف قریش کی غرض سے تباہ کیا۔اور یہ بھی درست ہے کہ ان کے دلوں میں رحلةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيْفِ کے متعلق رغبت پیدا کی تا کہ ان کو روٹی مل جائے اور مکہ میں اطمینان کے ساتھ بیٹھے رہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ اپنے ان دونوں انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم اس خدا کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھوک کی حالت میں کھانا کھلایا۔جو تمہارے قافلوں کو شام اور یمن کی طرف لے گیا اور اس طرح اس نے تمہارے لئے روٹی کا سامان کیا۔اسی طرح تم اس خدا کی عبادت کرو جس نے تمہارے خوف کو امن سے بدل دیا۔یعنی اصحاب الفیل جب حملہ کر کے آئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تباہ کیا اور تمہارے لئے اس نے امن کی صورت پیدا کی۔من جوع میں مین کا لفظ کیوں رکھا گیا ہے اور جوع پر تنوین کیوں آئی ہے؟ اس کی دو وجوہ ہو سکتی ہیں اور دونوں ہی اس جگہ چسپاں ہوتی ہیں۔پہلی یہ کہ تنوین تعظیم کے لئے آتی ہے۔اگر اس امر کو مدنظر رکھا جائے تو الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوع کے یہ معنی ہوں گے کہ اے اہل مکہ ہم نے تم کو ایک ایسی خطرناک بھوک سے بچایا ہے جس سے تمہارے بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔واقعہ یہ ہے کہ وہ لوگ ایک وادی غیر ذی زرع میں پڑے ہوئے تھے۔ایسے غیر آبادخطہ میں رہتے ہوئے وہ بھوک کی موت سے کہاں بچ سکتے تھے۔طائف میں بے شک باغات وغیرہ تھے اور وہاں کسی قدر زراعت بھی ہوتی تھی مگر یہ زراعت بہت ناکافی تھی۔مکہ کے صرف چند امراء خاندان ہی ایسے تھے جن کو طائف سے غلہ آتا تھا۔باقی لوگوں کے لئے یا تو 981