نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 983 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 983

استعمال ہوتی ہے۔اگر اس استعمال کو مدنظر رکھا جائے تو پھر من جوع کے یہ معنے ہوں گے کہ ادنیٰ سے ادنی بھوک اور من خوف کے یہ معنے ہوں گے کہ ادنیٰ سے ادنی خوف۔یعنی ہم نے اتنی فراوانی اور کثرت کے ساتھ رزق دیا کہ مکہ والے چھوٹی سے چھوٹی بھوک سے بھی نجات پا گئے۔یہ خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل اور کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے مکہ والوں کو ایک ایسی خطر ناک جگہ رکھ کر جہاں روٹی کا کوئی سامان نہ تھا ہر فرد کے لئے روٹی مہیا کر دی۔حقیقتا اگر غور کیا جائے تو یہ بڑے بھاری انعام اور فضل کا ثبوت ہے کہ ایسے خطرناک مقام پر رکھ کر اس نے ہر ایک کو روٹی مہیا کی۔ہر ایک کو با فراغت رزق دیا۔یہاں تک کہ وہ ادنیٰ سے ادنی بھوک کی تکلیف سے بھی محفوظ ہو گئے۔اسی طرح امتهُمْ مِّنْ خَوْفٍ کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں کو ادنیٰ سے ادنی خوف سے بھی نجات دی۔یعنی ابر ہہ اور اس کے لشکر کو اس نے حرم کی حدود میں داخل ہی نہیں ہونے دیا۔باہر ہی اس کا خاتمہ کر دیا۔اگر وہ مکہ میں داخل ہو جاتا اور منجنیقوں سے پتھر برسانے لگتا تو کچھ نہ کچھ خوف اہلِ مکہ کو ضرور ہوتا جیسے رسول کریم عالم کے بعد جب حجاج بن یوسف نے مکہ پر حملہ کیا تو روایات میں آتا ہے کہ ایک منجنیق کا پتھر خانہ کعبہ کو بھی آلگا اور اس کا کچھ حصہ جل بھی گیا۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ الم ترَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْبِ الْفِيْلِ میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اگر وہ اسی طرح ہوا تھا تو حجاج نے جب حملہ کیا اس وقت خانہ کعبہ کا کچھ حصہ کیوں جل گیا تھا اور کیوں اس کو پتھر بھی آلگا؟ اس کا جواب بعض لوگوں نے یہ دیا ہے کہ اس کی نیت خانہ کعبہ کو پتھر مارنے کی نہیں تھی اتفاقی طور پر وہ اسے آلگا تھا۔دوسرے آگ فوراً بجھا دی گئی تھی اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔بہر حال جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اصحاب الفیل کی تباہی رسول کریم یا لینے کے لئے بطور ار باص تھی اور خانہ کعبہ کی حفاظت اپنی ذات میں اتنی مقصود نہیں تھی جتنی رسول کریم عالم کی حفاظت مقصود تھی۔یہی وجہ ہے کہ جس شان سے اس وقت نشان ظاہر ہوا اس شان کا نشان بعد میں ظاہر نہیں ہوا۔بہر حال 983