نُورِ ہدایت — Page 980
اور شہرت دی۔اب اس آیت میں اوپر کے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب قریش پر ہم نے اس قدر احسانات کئے ہیں تو کیا ان کا فرض نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔اس خدا کی عبادت الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَأَمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ جس خدا نے انہیں بھوک پر کھانا کھلایا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دیا۔* عربی زبان میں یہ قاعدہ ہے کہ کبھی اشارہ قریب کا ذکر پہلے آجاتا ہے اور اشارۃ بعید کا ذکر بعد میں آتا ہے، اور کبھی ترتیب کلام کو مدنظر رکھا جاتا اور اسی کے مطابق اشارہ لایا جاتا ہے۔یہ دونوں طریق عربی زبان میں مروج ہیں اور دونوں طرح ضمائر کا استعمال ہوتا ہے۔اس جگہ اشارہ قریب کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور اشارہ بعید کا ذکر بعد میں کیا گیا ہے۔اشارہ قریب لا يُلفِ قُرَيْش الفِهِمْ رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيْفِ تھا اور اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ قریش بھوکے مرتے تھے ہم نے انہیں روٹی کھلائی۔پس چونکہ روٹی کا قریب میں ذکر آتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے روٹی کا ہی ذکر کیا اور فرمایا الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوع۔اس کے بعد دوسرا اشارہ جو اشارۃ بعید ہے سورۃ الفیل کی آخری آیت فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مأْكُولٍ کی طرف تھا جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابرہہ اور اس کے لشکر کو بھوسہ کی طرح اڑا دیا۔اگر ابرہہ کے لشکر کا گلی استیصال نہ کیا جاتا تو یمن سے مکہ کو مستقل خطرہ رہتا اور یمن کا سفر مکہ والوں کے لئے بالکل ناممکن ہو جاتا۔اسی طرح یمن سے لڑائی کی وجہ سے شام کا سفر بھی ناممکن ہو جاتا کیونکہ یمن بھی روم کا صوبہ تھا۔پس چونکہ اس صورت میں مکہ والوں کے لئے یہ دونوں سفر ناممکن ہو جاتے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا پُر ہیبت نشان دکھایا کہ یمن کی مسیحی حکومت بالکل تباہ ہو گئی اور شام پر بھی رعب طاری ہو گیا اور مکہ والوں کے دونوں سفر قائم رہے۔پس چونکہ یہاں اشارة بعيد فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مأکول کی طرف تھا اور اللہ تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرنا چاہتا تھا جو اس نے اصحاب الفیل کو تباہ کر کے مکہ والوں پر کیا اس لئے امنهُم مِّنْ خَوْفٍ کا ذکر اس نے أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوع کے بعد کیا۔980