نُورِ ہدایت — Page 957
۔وہ بے دین تھے انہوں نے وہ کچھ کیا جو کئی مسلمانوں نے نہیں کیا۔انہوں نے وہ کچھ کیا جو کئی احمدیوں نے بھی نہیں کیا۔اس رنگ کی قربانی میں احمدی یقیناً مکہ والوں کے برابر نہیں۔اور اگر اس قربانی میں وہ صحابہ سے بھی بڑھے ہوئے تھے، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والوں سے بھی بڑھے ہوئے تھے تو ہم سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ لا يُلفِ قُرَيش الفِهِمُ رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيْفِ ایک نشان تھا جو خدا نے دکھایا۔ایک آسمانی تدبیر تھی جس کو خدا تعالیٰ نے ظاہر کیا۔مگہ والوں کی یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ ایسا کر سکتے۔یہ خدا کا نشان تھا اور اسی خدا کی قدرت کا یہ کرشمہ تھا جو محمد رسول اللہ میم کو مکہ میں مبعوث کرنا چاہتا تھا اور یہی بات خدا تعالیٰ اس جگہ کہہ رہا ہے کہ مکہ والوں نے باوجود اس کے کہ وہ بے دین تھے، باوجود اس کے کہ وہ مشرک تھے، باوجود اس کے کہ وہ روحانیت سے عاری تھے، وہ فعل کیا جو آج تک دنیا کی کوئی قوم نہیں کرسکی۔پس وہ فعل مگہ والوں نے نہیں کیا ، وہ فعل ہم نے ان سے کروایا۔وہ صرف ہمارے تصرف اور اثر کا نتیجہ تھا۔انہوں نے جو کچھ کیا ہم اس کی وجہ قومی کیریکٹر قرار نہیں دے سکتے۔کیونکہ قومی کیریکٹر کے ہوتے ہوئے بھی بھوک پیاس کی تکلیف پر لوگ ادھر ادھر بھاگ جایا کرتے ہیں۔اسے ہم صرف خدا تعالیٰ کا تصرف اور خدا تعالیٰ کی تدبیر ہی کہہ سکتے ہیں۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ چونکہ مکہ والوں کا کام ان کا اپنا کام نہ تھا خدا تعالیٰ کا کام تھا اس لئے ہم اس کی نقل اتارنے کی کوشش نہ کریں۔جس حد تک اس قربانی کی مثال ہم پیش کر سکیں ہمیں پیش کرنی چاہئے۔جب تک ہم ایسا نہ کریں ہم دنیا میں کوئی بڑا انقلاب پیدا نہیں کر سکیں گے۔صحابہ نے بے شک دنیا میں انقلاب پیدا کیا لیکن وہ انقلاب ایسی ہی قربانی کی مثال قائم کرنے کی کوشش سے پیدا کیا۔اگر وہ بالکل اس معیار پر پورے اترتے جو مکہ والوں میں معجزہ کے طور پر اور ظہور محمدی کے پیش خیمہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے دکھایا تھا تو یقیناً صحابہ اپنی ترقی کے معیار کو اور بھی اونچالے جاتے۔وہ اسلام کی بنیادوں کو اور مضبوط کر دیتے۔وہ کفر کی تباہی کو اور بھی مکمل کر دیتے۔957