نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 956 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 956

ہوں کہ تم اطمینان سے یہاں بیٹھے رہو ہم کمائیں گے اور تمہیں کھلائیں گے۔ہم نے تو دیکھا ہے احمدیوں میں سے بھی بعض ایسے بے حیا اور بے شرم ہوتے ہیں کہ وہ بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیتے ہیں کہ مبلغوں کا کیا ہے وہ تو پیسے لے کر کام کرتے ہیں۔ان بے حیاؤں سے کوئی پوچھے کہ تم بغیر پیسے کے کام نہ کرو۔وہ پیسے لے کر کام نہ کریں۔تو دین کا کام کون کرے۔پھر تو دین کا خانہ ہی خالی ہو جائے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح تم کما سکتے تھے۔اسی طرح وہ بھی کما سکتے تھے۔یہ کہنا کہ غربت کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں سکتے تھے یا دنیا میں ترقی نہیں کر سکتے تھے بالکل جاہلانہ بات ہے۔ڈاکٹر اقبال کے باپ بہت ہی معمولی آدمی تھے۔ٹوپیاں بنایا کرتے تھے مگر ان کا ایک بیٹا انجینئر ہو گیا اور دوسر ا علامہ کہلانے لگا۔اسی طرح سید احمد صاحب کیا تھے؟ ایک بہت ہی غریب آدمی کے لڑکے تھے مگر ترقی کر کے کہیں کے کہیں جا پہنچے۔پس یہ کہنا کہ وہ دنیا میں ترقی نہیں کر سکتے تھے اس لئے دین کی طرف چلے گئے، بالکل غلط ہے۔دنیا میں مثالیں موجود ہیں کہ بڑے بڑے غریب لوگوں کی اولادیں بڑے بڑے اعلیٰ مقام تک جا پہنچیں۔پھر سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے دین میں اپنی قابلیت ثابت کر دی ہے تو اسی طرح وہ دنیوی کاموں میں بھی اپنی قابلیت ظاہر کر سکتا تھا مگر اس نے یہی چاہا کہ وہ خدا کا کام کرے اور دنیا کے کام کو نظر انداز کر دے۔اصل بات یہ ہے کہ محض اس حسد اور غصہ کی وجہ سے کہ لوگ ہمیں یہ کیوں طعن کرتے ہیں کہ ہم دین کی خدمت نہیں کرتے۔بعض لوگ اس قسم کے اعتراضات شروع کر دیتے ہیں کہ مبلغوں کا کیا ہے وہ بھی تو نوکری کرتے ہیں۔حالانکہ یہ انتہا درجہ کی بے شرمی کی بات ہے۔پس یہ کہنا کہ مکہ والوں نے اگر ایسا کیا تو اپنی حالت کو درست کرنے کے لئے کیا اس میں قربانی کی کونسی بات ہے، محض واقعات پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔اگر ایسا ہر شخص کرسکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ باقی قومیں ایسا کیوں نہیں کرلیتیں اور وہ کیوں خاموش ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اس خوبی کو مکہ والوں کی طرف منسوب کریں تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ نیک جماعت تھی کیونکہ باوجود اس کے کہ وہ کافر تھے، باجود اس کے کہ 956