نُورِ ہدایت — Page 958
ہماری جماعت کے افراد کو بھی غور کرنا چاہئے کہ وہ اس وقت کیا نمونہ پیش کر رہے ہیں۔جب وہ غیروں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں دیکھو ہماری جماعت کتنی قربانی کر رہی ہے۔کس طرح نوجوان اپنی زندگیاں وقف کر رہے ہیں۔کیونکہ وہاں غیر کی طرف سے انہیں عزت مل رہی ہوتی ہے۔مگر جب اندر بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں ان مولویوں کا کیا ہے، یہ تو پیسے لے کر کام کرتے ہیں۔حالانکہ جو کچھ مکہ والوں نے کیا اگر ساری جماعت قربانی کے اس نقطہ تک پہنچ جائے تو دنیا میں حیرت انگیز طور پر ہماری تبلیغ کا سلسلہ وسیع ہو جائے۔۔۔۔مکہ والے بھی آخر اپنی آمد کا نصف قومی کاموں کے لئے دے دیا کرتے تھے۔وہ کافر تھے، وہ بے ایمان تھے، وہ مشرک تھے۔مگر وہ سب کے سب اپنی آمد کا نصف اس لئے نکال دیا کرتے تھے تا کہ وہ غربا میں تقسیم کیا جائے اور مکہ آبادر ہے۔ان کے دلوں میں ایمان نہیں تھا ان کے پاس قرآن نہیں تھا، ان کے سامنے قومی ترقی کا کوئی مقصود نہیں تھا، ان کے سامنے کوئی اعلی درجے کا آئیڈیل نہیں تھا۔محض اتنی بات تھی کہ ٹھنی نے ہم کو کہا ہے کہ ہمارے دادا ابراہیم نے یہ کہا ہے کہ مگہ میں رہو اس لئے ہم یہاں رہنے کے لئے آگئے ہیں۔یہ کتنا چھوٹا سا آئیڈیل ہے۔اس کے مقابلہ میں تمہارا آئیڈیل کیا ہے۔تمہارا آئیڈیل یہ ہے کہ تم نے دنیا فتح کرنی ہے۔تم نے دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بادشاہت قائم کرنی ہے۔تم نے دنیا میں خدا کی بادشاہت قائم کرنی ہے۔وہ اپنے چھوٹے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اپنا نصف مال لا کر دے دیتے تھے۔ان میں سے ہر شخص اپنی آمد کا آدھا حصہ نکال کر کہتا کہ یہ آدھا حصہ غریبوں کے لئے ہے تا کہ مکہ آباد رہے اور وہ اسے چھوڑ کر ادھر اُدھر نہ جائیں۔۔۔۔اگر جماعت مکہ والوں کی قربانی کے برابر قربانی کرنے لگ جائے ، اس سے نصف بھی کرنے لگ جائے ، اس سے چوتھا حصہ بھی کرنے لگ جائے تو کتنا عظیم الشان کام ہوسکتا ہے۔کتنی تبلیغ وسیع ہوسکتی ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ دنیا کی تاریخوں میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ صدیوں تک ایک 958