نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 886 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 886

تھا کہ دیکھو تم ایک خطر ناک گڑھے میں گر رہے ہو سنبھل جاؤ اور اپنے آپ کو ہلاکت سے بچالو۔مگر تم پھر بھی نہ بچے اور اپنے آپ کو تباہ کر لیا۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ النعیم سے ہر بڑی نعمت مراد ہو۔اس صورت میں اس آیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک کر کے اپنی تمام بڑی نعمتیں ان کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا کہ میں نے تمہیں یہ نعمت بھی دی وہ نعمت بھی دی مگر تم نے میری ساری نعمتوں کو ضائع کر دیا۔میں نے تمہیں روپیہ دیا تو تم نے اپنے گھروں میں رکھ لیا اور یہ پسند نہ کیا کہ تم غریبوں پر خرچ کرو یا صدقہ و خیرات دو۔یتامیٰ و مساکین کی خبر گیری کرو۔میں نے تمہیں حکومت دی تو تم نے لوگوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔میں نے تمہیں عزت دی تو تم نے لوگوں کو ذلیل سمجھنا شروع کر دیا۔غرض کونسی نعمت تھی جو میں نے تمہیں دی اور تم نے اس کا بُرا استعمال نہ کیا۔پس النعیم کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ النعیم سے نعمت کاملہ یعنی محمد رسول الله لا علم کا وجود مراد ہو۔اس صورت میں اس کا یہ مفہوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمت کا ملہ یعنی محمد رسول اللہ علی ایم کے متعلق سوال کرے گا کہ تم نے اس کی نصیحتوں سے کیوں فائدہ نہ اٹھایا۔اور یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ النعیم سے ہر بڑی نعمت مراد ہو۔یعنی مال و دولت ، عزت و رسوخ اور حکومت جو خدا نے انہیں دی تھی اس کے متعلق ان سے سوال کیا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ خدا تعالیٰ کے اتنے بڑے احسانات کے ہوتے ہوئے تم نے ان نعمتوں سے کیا فائدہ اٹھایا۔دنیا میں بھی تباہ شدہ اقوام پر لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ کا ایک وقت آیا کرتا ہے۔جب قومیں تباہ ہوتی ہیں اس وقت کف افسوس ملتی ہوئی ایک دوسرے سے کہا کرتی ہیں کہ ہمیں فلاں موقع ملا مگر ہم نے ضائع کر دیا۔فلاں موقع ملا مگر ہم نے اس سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔کاش ہم سنبھل جاتیں اور اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے نہ کھودتیں۔پس بے شک قیامت کے دن بھی خدا تعالیٰ اپنی نعمتوں کے متعلق لوگوں سے سوال کرے گا 886