نُورِ ہدایت — Page 887
اور ان سے دریافت کرے گا کہ میری نعمتوں سے تم نے کیا فائدہ اٹھایا۔مگر اس دنیا میں بھی جب قوموں پر تباہی وارد ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے کہا کرتی ہیں کہ ہمیں ترقی کا فلاں موقع ملا مگر ہم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا یا فلاں موقع ملامگر ہم نے اسے ضائع کر دیا۔غرض قرآن کریم نے اس سورۃ میں نہایت مختصر الفاظ میں وہ گر بتایا ہے جس سے قومیں تباہ ہوتی ہیں۔اگر اس گر کو ہمیشہ یادر کھا جائے تو کبھی قومی تباہی نہ آئے۔محمد رسول اللہ علیم نے لوگوں کو ہوشیار کر دیا تھا کہ قومی تباہی کی سب سے بڑی وجہ تکاثر ہوتی ہے۔مگر افسوس کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو کھول کر بیان کر دیا تھا پھر بھی قومیں اسی طرح کرتی چلی جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی نعمتیں ان کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اور وہ تکاثر کو زیادہ اہمیت دے کر اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں گرا لیتی ہیں۔( ماخوذ از تفسیر کبیرزیر سورة التكاثر ) 887