نُورِ ہدایت — Page 885
ثُمَّ لتَرَوُهَا عَيْنَ الْيَقِينِ کہ کر فرمایا کہ یہ تو علمی بات تھی مگر میں پھر کہتا ہوں کہ تم ضرور دیکھ لو گے کہ موت تمہاری آنکھوں کے سامنے کھڑی ہے۔ابھی تک تو تمہیں علمی رؤیت بھی حاصل نہیں لیکن تھوڑے دنوں تک تمہیں علمی رؤیت ہی نہیں بلکہ عینی رؤیت بھی حاصل ہو جائے گی۔یعنی صرف دنیوی احساس ہی تباہی کے قریب پیدا نہ ہوگا بلکہ واقعہ میں پھر بلا نازل ہو جائے گی اور اسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کیونکہ مجھے خدا نے بتایا ہے کہ تم ضرور تباہ ہو جاؤ گے۔یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ تم پہلے دنیا میں اپنی تباہی دیکھو گے اور پھر آخرت میں عذاب الیم کا شکار بنو گے۔ثُمَّ لَتُسْتَلُنَّ يَومَيْل عَنِ النَّعِيمِ پھر یہ بھی یادرکھو کہ ) تم سے اس دن ( ہر بڑی ) نعمت کے متعلق سوال کیا جائے گا ( کہ تم نے اس کا شکر ادا کیا یا نہ ) نعيم کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے اس کے متعلق عربی سے ناواقف لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ جمع ہے۔۔۔۔عام تراجم میں بھی غلطی سے نعیم کے معنے نعمتوں کے ہی کئے جاتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔نعیم کے معنے صرف نعمت کے ہیں نعمتوں کے نہیں۔مگر اس لفظ کی بناوٹ کچھ ایسی ہے کہ لوگ اس سے دھو کہ کھا جاتے ہیں۔النعیم سے میرے نزدیک اس جگہ محمد رسول اللہصل تعلیم کا وجود مراد ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے، تباہ اور برباد ہو جاؤ گے تو اس وقت میں تم سے پوچھوں گا کہ بتاؤ محمد رسول اللہ علیم نعمت تھے یا نہیں؟ انہوں نے کب سے تمہیں ہوشیار کرناشروع کیا تھا کہ بچ جاؤ ، ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں اپنے آپ کومت گراؤ۔مگر تم نے ان کی نصیحت پر کام نہ دھرا اور آخر وہ وقت آ گیا جب تم سچ سچ تباہ ہو گئے تم غور کرو کہ کتنی بڑی نعمت تھی جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی مگر تم نے اس سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا۔اس نے تمہیں وقت پر ہوشیار کر دیا 885