نُورِ ہدایت — Page 851
یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے فلاں تغیر واقعہ ہوا اور پھر فلاں تغیر پیدا ہوا۔اسی طرح مٹیوں کے رنگوں اور ان کی بوؤں سے اب کانوں وغیرہ کے پتہ لگانے کا علم نکل آیا ہے۔اس علم کے ماہر انجینئر پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاتے ہیں اور پتھروں کو اٹھا اٹھا کر دیکھتے یا زمین کو سونگھتے ہیں اور بتاتے جاتے ہیں کہ یہاں فلاں قسم کی کانیں دفن ہیں۔اسی طرح بجلی کی رو کے ذریعہ سے کانوں کی اقسام اور ان کی گہرائیوں کا پتہ لیا جاتا ہے۔یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ زمین میں کس چیز کی کان ہے۔لوہے کی ہے یا پیتل کی ہے اور پھر یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ وہ سو گز نیچے ہے یا دوسو گز نیچے ہے یا چار سو گز نیچے ہے۔غرض اس ذریعہ سے زمین اپنی خبریں بتا رہی ہے۔وہ زمین جو پہلے گونگی تھی اب کلام کرنے لگ گئی ہے۔عام لوگ گزرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ زمین خاموش ہے وہ کچھ کہ نہیں رہی۔لیکن ایک انجینئر گزرتا ہے تو وہ سنتا ہے کہ زمین اسے یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ میرے نیچے مٹی کا تیل ہے اور وہ یہ کہ رہی ہوتی ہے کہ وہ اسی گز نیچے ہے یا یہ بتارہی ہوتی ہے میرے نیچے سونے کی کان ہے اور یہ بھی بتارہی ہوتی ہے وہ سونے کی کان اتنی دور ہے یا یہ بتارہی ہوتی ہے کہ میرے نیچے پتھر کا کوئلہ ہے اور یہ بھی بتا رہی ہوتی ہے کہ وہ پتھر کا کوئلہ اتنی دور ہے۔اسی طرح بتا رہی ہوتی ہے کہ میرے نیچے یورینیم یا پلاٹینیم یا فلاں دھات ہے اور یہ بھی بتارہی ہوتی ہے کہ یہ دھاتیں اتنی گہرائیوں پر ہیں۔اخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا کے جو یہ معنے بتائے گئے تھے کہ لوگ اپنے گندے خیالات بیان کرنے لگ جائیں گے ان کے لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے بھی ہوں گے کہ نہ صرف لوگوں کے دیئے ہوئے خیالات اس زمانہ میں ظاہر ہونے لگ جائیں گے بلکہ اہل زمین اپنے ان عیوب کو الم نشرح کرنے میں لذت محسوس کریں گے یا دوسروں کے عیوب شائع کرنے میں انہیں خاص لطف محسوس ہوگا اور وہ انتہائی دلچسپی کے ساتھ اس کام میں حصہ لیں گے۔چنانچہ تمام یورپ، امریکہ بلکہ ایشیائی ممالک میں بھی آج کل ایسے اخبارات نکلتے ہیں جن کو سوسائٹی گاسپ (society gossip) کہا جاتا ہے۔یہ اخبار اس کثرت سے دنیا میں شائع ہونے لگ گئے ہیں اور اس طرح مزے لے لے کر ان کو پڑھا جاتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔ان اخبارات کو 851