نُورِ ہدایت — Page 852
چلانے والے بھی لاکھوں روپیہ اس بات پر خرچ کر دیتے ہیں کہ انہیں کسی بڑے شخص کے راز معلوم ہو جائیں۔خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور پھر جب وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان رازوں کو اخبارات کے ذریعہ شائع کیا جاتا ہے اور دنیا میں ان کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ لوگ خود اپنے شہوانی جذبات کی نسبت بالتفصیل کتب لکھنے لگ گئے ہیں صرف قانون کی زد سے بچنے کے لئے ان کتابوں پر یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ کتابیں صرف ڈاکٹروں اور فلاسفروں کے لئے لکھی گئی ہیں عام لوگوں کے لئے نہیں۔تا کہ یہ سمجھا جائے کہ ان کتابوں کی اشاعت محض علمی اغراض کے ماتحت کی جارہی ہے کوئی نفسانی خواہش ان کتب کی اشاعت کی محرک نہیں ہے۔ایک حدیث بھی ان معنوں کی تصدیق کرتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ حدیث اسی زمانہ کے بارہ میں ہے۔احمد ، ترمذی اور نسائی نے روایت کی ہے ( گو الفاظ روایت احمد کے ہیں ) کہ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ ﷺ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا قَالَ اندرُونَ مَا أَخْبَارُهَا قَالُوا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ و آمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا أَنْ تَقُولَ عَمِلَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا فَهَذِهِ أَخْبَارُهَا۔یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم عالم نے یہ آیت پڑھی کہ يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا پھر آپ نے فرمایا آتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا اے میرے صحابہ کیا تم جانتے ہو کہ اس کی اخبار کیا ہیں ؟ قَالُوا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔قَالَ فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ وَ آمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظهْرِهَا۔اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر انسان یعنی ہر مرد اور عورت کے متعلق یہ بیان کرے گی کہ اس نے کیا کیا ہے۔آنْ تَقُولَ عَمِلَ كَذَا وَ كَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا۔وہ یہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن یہ کام کیا ہے اور فلاں دن یہ کام کیا۔چونکہ اس آنے والے دن کے بارہ میں محدثین کو علم نہ تھا انہوں نے اسے قیامت پر لگایا ہے حالانکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ حدیث اسی 852