نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 850 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 850

پوری ہوئی ہے چنانچہ ہر سال حیرت انگیز طور پر کئی قسم کی ایجادات ہو جاتی ہیں اور یہ سلسلہ برابر بڑھتا جا رہا ہے۔وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَالَهَا اور انسان کہہ اُٹھے گا کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔اس دن وہ اپنی (ساری ہی پوشیدہ) خبریں بیان کر دے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زمین اپنے اثقال کو نکال باہر کرے گی یہاں تک کہ ان سب چیزوں کو دیکھ کر انسان حیرت سے کہہ اُٹھے گا کہ مالھا۔اسے کیا ہو گیا ہے اس دنیا میں کیا کچھ راز پوشیدہ تھے جو ظاہر ہورہے ہیں اور کیا کیا چیزیں مخفی تھیں جن کو زمین اُگل رہی ہے۔دوسرے معنے یہ ہو سکتے ہیں کہ الانسان سے ہر انسان مراد نہ ہو بلکہ کامل انسان مراد ہو۔اس صورت میں آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ کامل انسان دنیا کی عریانی اور لامذہبیت کی حالت دیکھ کر کہے گا کہ اس دنیا کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ سے اس قدر دور چلی گئی ہے۔يَوْمَئِذٍ تُحَيثُ الخَبَارَهَا کا یہ نیا مضمون بھی ہو سکتا ہے اور وَاخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا کی تشریح بھی ہو سکتا ہے۔نے مضمون کے لحاظ سے میرے نزدیک اس کے یہ معنے ہیں کہ پیدائش زمین کے بارہ میں اس سے پہلے دنیا کو ایک مجمل اور ناقص علم حاصل ہوگا مگر فرماتا ہے اس زمانہ میں علم سائنس جیالوجی کی شکل میں اس قدر ترقی کر جائے گا کہ زمین کی بناوٹ اور شعاعوں اور لہروں وغیرہ کے ذریعہ سے زمین کی پیدائش کے مسئلہ پر بہت کچھ روشنی پڑنے لگے گی گویا اخبارھا سے مراد یہ ہے کہ زمین اپنی حقیقت اور کیفیت پیدائش کے بارہ میں بہت کچھ باتیں بتانے لگ جائے گی۔یہ اس لئے فرمایا کہ علم جیالوجی کا بڑا امدار خود مٹی کی ماہیت اور اس کے رنگوں اور اس کی تہوں پر ہے۔یہ نہیں کہ کسی اور ذریعہ سے وہ ان معلومات کو حاصل کرتے ہیں بلکہ علم جیالوجی کے ماہرین مٹی کا رنگ دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس اس قسم کے تغیرات زمین پر گزرے ہیں اس کی تہوں سے اندازہ لگا کر بتا دیتے ہیں کہ اس پہ پر یہ شکل ہے اور اس پہ پر یہ شکل ہے جس سے 850