نُورِ ہدایت — Page 845
وفنون اہلِ ارض کے ہاتھوں سے ملائکہ اللہ کی تحریکات سے اب ظاہر ہورہے ہیں۔اس کی بھی نظیر سابقہ زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔چوتھی آیت میں جو قَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا ہے اس سے زیادہ تر رجحان اسی بات کا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات قبل از قیام ساعت دنیا میں ہی ہونے والے ہیں۔کیونکہ انسان اس کا استعجاب سے مالھا کہنے دنیوی روز افزوں ترقیات و عجائبات کے ظہور کی وجہ سے ہوگا۔آخر میں بعث بعد الموت کے وقت تو تمامی امور سب پر حق الیقین کے طور پر کھل جاویں گے۔اس وقت انسان تعجب کا کلمہ نہیں کہے گا بلکہ يُلَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَياتي (الفجر 25) کہے گا۔اہلِ ارض جس قدر اپنے اخبار اس وقت شائع کر رہے ہیں وہ ظاہر ہے۔جس قدر باریک در بار یک علوم وفنون اہل ارض اس وقت ظاہر کر رہے ہیں یہ ملائکۃ اللہ ہی کی تحریک کے نتائج ہیں۔یہ ایسی ہی وحی ہے جیسے کہ شہد کی مکھی ( نحل ) کی وحی۔وحی کے معنی حرف لطیف ، رموز و اشارات و کنایات کے ہیں۔حمد اس آیت پر اعتراض کرتے ہوئے ایک آریہ نے اعتراض کیا کہ : زمین باتیں کرے گی۔سورج کیوں نہ کریں گے۔ستارے کیوں خاموش ہیں۔الجواب : اول تو سورج اور چاند کی خاموشی کا ذکر نہیں جو آپ کو اس پر تعجب ہوا۔دوم : ستارے بھی تمہارے دیانند کے اعتقاد میں زمین ہی ہیں۔پس ان کی خاموشی بھی ثابت نہیں۔کیونکہ وہ بھی زمین ہیں یا زمین کی طرح ہیں۔پس جیسے یہ باتیں کرے گی۔وہ بھی باتیں کریں گے۔سوم: یہ تا تستھ اورپارہی ہے۔اگر تم کو اس کی سمجھ نہیں تو پڑھو۔ستیارتھ پرکاش 254اہم برہم اسمی ارتھ میں لکھا ہے۔اس موقعہ پر تا تستھ او پار ہی (استعاره ظرف ومظروف) کا استعمال ہے۔جیسے: (منچا گری شرتنا ) منچ پکارتے ہیں۔چونکہ منچ جڑ ہیں۔ان میں پکارنے کی طاقت نہیں۔اس لئے منچ کے جاگزیں آدمی پکارتے ہیں۔پس اسی طرح اس موقع پر سمجھنا چاہئے۔845