نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 846 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 846

چہارم : تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا (الزلزال 6۔5) بیان کرے گی زمین اپنی خبریں اس لئے کہ تیرے رب نے اسے وحی کے ذریعہ حکم کیا ہے۔پس ہمہ سارے ( القادر ) سرب شکستیمان ( الغنی القادر ) جو دوسرے کا محتاج نہیں۔اگر وہ زمین کو فرمادے کہ تو بیان کر تو کیا وجہ ہے کہ پھر بیان نہ ہو سکے؟ تم بھی تو قومی خداداد سے ہی بولتے ہو۔زمین بھی تو قوی خداداد سے بول سکتی یا بیان کرسکتی ہے۔محدث میں یہ ضرور نہیں کہ ہماری تمہاری طرح پنجابی یا اردو بولے۔ہر ایک کے مناسب حال ہوا کرتا ہے۔پھر الفاظ کی ضرورت بھی نہیں۔ایک لسان الحال اور ایک لسان الافعال بھی ہوتی ہے۔اب تم خود سمجھ لو کہ زمین کی لسان کس نوع کی ہے جس سے وہ بولے گی۔اور ظرف ومظروف کے استعارہ پر کیوں تم خود سمجھ نہیں سکتے۔( نور الدین طبع ثالث 117 ) فَمَن يَعْمَلُ مِفْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں آیتوں کو جَامِعَةٌ فَاذْةٌ فرمایا ہے۔ہر نیکی بدی تولنے کیلئے یہ کانٹے کی میزان ہے۔مثقال ترازو کے پٹے کے وزن کا نام ہے اور ذرہ بہت کم مقدار چیز ہے۔جزا و سزا بھی انسان کو ہر وقت ملتی رہتی ہے۔اگر غور کرتا رہے تو بات سمجھ آتی ہے کہ لازمی عمل کی یہ جز املی اور فلاں کی یہ۔نامعہ اعمال کے جزاوسزا کا حال بھی آنکھ کے بند ہونے پر معلوم ہو جائے گا۔موت کی کوئی خبر نہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہر وقت مسلمان بنے رہو۔یہ مت سمجھو کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کی کیا ضرورت ہے اور وہ کیا کام آئے گا۔نہیں۔خدا تعالیٰ کسی کے فعل کو ضائع نہیں کرتا فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (الزلزال8) ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں جب کافر تھا تو اللہ کی راہ میں خیرات کیا کرتا تھا۔کیا اس خیرات کا بھی کوئی نفع مجھے ہوگا۔فرمایا أَسْلَمْتَ عَلَى مَا اسلفت تیری وہی نیکی تو تیرے اس اسلام کا موجب ہوئی۔خدا تعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ اور اس 846