نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 844 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 844

گیا کہ زید نے خون کیا ہو اور خالد کو پھانسی ملی ہو۔غرض یہ ایک ایسا اصول ہے جس کی کوئی نظیر ہرگز موجود نہیں۔میں اپنی جماعت کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ ضرورت ہے اعمالِ صالحہ کی۔خدا تعالیٰ کے حضور اگر کوئی چیز جاسکتی ہے تو وہ یہی اعمالِ صالحہ ہیں۔الحکم جلد 5 نمبر 28 مورخہ 31 جولائی 1901ء صفحہ 2) خدا تعالیٰ ہدوں کسی نیکی ، دعا اور التجا اور بڑوں تفرقہ کا فرومومن کے ہر ایک کی پرورش فرما رہا ہے اور اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے فیض سے سب کو فیض پہنچا رہا ہے پھر وہ کسی کی نیکیوں کو کب ضائع کرے گا۔اس کی شان تو یہ ہے مَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ۔جوزرہ بھی نیکی کرے اس کا بھی اجر دیتا ہے اور جو ذرہ بدی کرے گا اس کی پاداش بھی ملے گی۔یہ ہے قرض کا اصل مفہوم جو اس آیت سے پایا جاتا ہے۔چونکہ اصل مفہوم قرض کا اس سے پایا جاتا تھا اس لئے یہی کہ دیا مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا ( البقرة 246) اور اس کی تفسیر اس آیت میں موجود ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ - حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حکم جلد 5 نمبر 21 مورخہ 10 جون 1901، صفحہ 3) زُلْزِلَتِ لأَرْضُ زِلْزَالَهَا سے مراد ہے کہ خوب زور شور کی جنبش اہل ارض میں پیدا ہوگی۔در اصل اس سورۃ شریفہ کے الفاظ سورۃ القدر کے بیان کے مفسر ہیں۔سورۃ القدر میں فرمایا تها تَنَزَّلُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهم (آيت 5) یعنی قابل قدر زمانہ میں فرشتوں کا نزول کثرت سے ہو گا۔اور الروح جو فرشتوں کے سردار ہیں ان کا بھی نزول ہوگا۔اس جگہ آیت میں أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا فرما کر یہ ظاہر فرمایا کہ فرشتوں ہی کی تحریکات سے اہلِ ارض زمین سے ہر قسم کے انتقال باہر نکال دیں گے۔یہ اثقال معدنیات کی قسم سے بھی ہیں اور علوم و فنون کے قسم سے بھی ہیں۔جس قدر معدنیات اس وقت میں نکلے اور نکل رہے ہیں۔اس کی نظیر اگلے زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔اور جس قدر علوم 844