نُورِ ہدایت — Page 740
غرض لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرِ إِلَّا مَنْ تَوَلَّی وَ كَفَرَ میں غلبہ اسلام کی پیشگوئی پائی جاتی ہے۔اور یہ بات ایسی ہے کہ عیسائی مصنفین کو بھی کھٹکی ہے۔چنانچہ ویر کی اس آیت کے ماتحت لکھتا ہے آپ کے دل میں شروع سے ہی حکومت کے خیالات اُٹھ رہے تھے۔چنانچہ ابتدائی زمانہ میں ہی اس قسم کی آیات مکہ والوں کو سُنانا بتا رہا ہے کہ انہوں نے شروع سے ہی حکومت کا نقشہ اپنے ذہن میں جمایا ہوا تھا اور ویسے ہی خیالات دل میں پیدا ہوتے رہتے تھے۔مگر سوال یہ ہے کہ حکومت کے خیالات آخر کسی وجہ سے پیدا ہوا کرتے ہیں بغیر کسی وجہ کے پیدا نہیں ہو سکتے۔وہ شخص جو ماریں کھا رہا ہو، جولوگوں کے ظلم وستم کا نشانہ بنا ہوا ہو، جو اتنی طاقت بھی نہ رکھتا ہو کہ باہر نکل کر خدا تعالیٰ کی عبادت کر سکے اُس کے دل میں حکومت کے خیالات پیدا ہی کس طرح ہو سکتے ہیں اور پھر خود ساختہ خیالات پورے کس طرح ہو گئے۔در حقیقت یہ ایک پیشگوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ گو اس وقت تمہاری کوئی حیثیت نہیں مگر ایک زمانہ میں تم کو ایسا غلبہ حاصل ہونے والا ہے کہ تم جو چاہو گے کرسکو گے مگر دیکھنا جب تمہیں غلبہ میسر آئے اُس وقت اِن لوگوں پر جبر نہ کرنا بلکہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دینا جو شخص ایمان لے آئے اُسے اپنے اندر شامل کر لینا اور جو توئی اور کفر کرے اس کی پرواہ نہ کرنا۔إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَ كَفَرَ توئی اور کفر کرنے والوں کو بہت بڑا عذاب دیے جانے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک بڑی ہدایت کا انکار کیا۔سزا ہمیشہ جرم کے مطابق دی جاتی ہے۔معمولی قصور ہو تو معمولی سزادی جاتی ہے اور زیادہ قصور ہو تو زیادہ سزا دی جاتی ہے۔ان کا جرم چونکہ معمولی نہیں ہوگا اس لئے انہیں سزا بھی غیر معمولی دی جائے گی کیونکہ انہوں نے اُس رسول کا انکار کیا جو تمام رسولوں سے بڑا ہے اور جس کی شریعت تمام شریعتوں سے بڑی تھی۔إِنَّ الَيْنَا اِيَابَهُمْ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم اس آیت سے اس مضمون کو ختم کیا گیا ہے جو سورۃ الاعلیٰ سے شروع کیا گیا تھا اور بتایا 740