نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 739 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 739

گے، بڑھانے والے نہیں۔مومنوں پر مُصيطر اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ایسے ہی اعمال کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہوسکتی ہے جو دلی شوق اور رغبت سے کئے جائیں۔جس شخص کے دل میں ذاتی طور پر خدا تعالیٰ کی محبت کا کوئی جوش نہیں، اُس کے احکام پر عمل کرنے کا ولولہ اس کے سینہ میں نہیں پایا جاتا، وہ معرفت اور اخلاص کی راہوں سے بیگانہ ہے۔وہ اگر جبر کے ماتحت کوئی نیک کام کرے گا بھی تو اُس کی رُوح کو پاکیزگی حاصل نہیں ہوگی اور خدا تعالیٰ کے حضور اس کے وہ اعمال قبولیت کی نگاہ سے نہیں دیکھے جائیں گے۔اس لئے فرمایا کہ تمہیں لوگوں کا مصیطر بنا کر نہیں بھیجا گیا۔جو شخص کفر کرے اور باوجود سمجھانے کے اپنے بد اعمال سے باز نہ آئے اُسے ہمارے سپرد کر دو۔تمہارے جبر سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔اور جو مسلمان ہے اُسے شوق اور رغبت کے ذریعہ سے نیکی میں بڑھاؤ تا کہ اُسے ایمان کا نفع حاصل ہو۔یہاں بھی دیکھ لو اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کی کیسے کھلے لفظوں میں پیشگوئی کی گئی ہے۔منگی زندگی میں جبکہ اسلام کا ابتدا تھا اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ اسلام بہت بڑی طاقت حاصل کر لے گا یہاں تک کہ کفار کی گردنیں مسلمانوں کے قبضہ میں ہوں گی اور وہ اختیار رکھتے ہوں گے کہ اُن سے جو سلوک چاہیں کریں۔اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ کشت عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرِ یہ صاف بات ہے کہ مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی ایسی طاقت حاصل نہیں تھی کہ آپ کو یہ کہا جاتا کہ تجھے ہم نے مصیطر بنا کر نہیں بھیجا۔یہ آئندہ کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی اور اسلام کے غلبہ کی خبر دی گئی تھی ورنہ وہ لوگ جن کو مکہ میں گھلے بندوں نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں تھی اُن کو یہ کہنا کہ تمہیں زبر دستی کسی کو مسلمان بنانے کی اجازت نہیں ایک مضحکہ خیز بات ہو جاتی ہے۔یہ فقرہ صاف بتا رہا تھا کہ وہ دن آنے والا ہے جب کہ مسلمانوں کو اتنی طاقت حاصل ہو جائے گی کہ وہ اگر چاہیں تو زبردستی لوگوں کو مسلمان بنا سکیں گے مگر پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے بطور نصیحت فرما دیا کہ تم ایسا نہ کرنا۔739