نُورِ ہدایت — Page 741
گیا ہے کہ مومن و کافر اپنے اپنے کام پورے کر کے مومن تسبیح کو بلند کر کے اور کافر کفر کی اشاعت کر کے آخر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور دنیوی نتائج دیکھ کر اُخروی نتائج دیکھنے کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہوں گے۔ا سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ دونوں کے متعلق یہ امر بتایا جا چکا ہے کہ ان کا آپس میں گہرا ربط ہے۔اس کا ایک ثبوت اس امر سے بھی ملتا ہے کہ احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سَبِّحِ اسْمَ رَبك الأعلى پڑھتے تو فرماتے سُبحان ربي الأعلی اور جب سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کرتے کرتے اِنَّ الَيْنَا ايَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم پر پہنچتے تو فرماتے اللهُمَّ حَاسِبْنِی حِسَابًا يَسِيرًا۔ایک سورۃ کے شروع میں ایک فقرہ کا دُہرانا اور دوسری سورۃ کے آخر میں دوسرے فقرے کا دہرانا صاف طور پر بتا رہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ دونوں سورتیں مضمون کے اعتبار سے آپس میں جوڑ رکھتی ہیں۔اسی لئے ایک سورۃ کی ابتدا میں اور دوسری سورۃ کے انتہا میں ایک ایک فقرہ یہ بتانے کے لئے ڈ ہراتے کہ جو مضمون سبح اسم ربك الأعلى سے شروع ہوا تھا وہ إِنَّا إِلَيْنَا ايَاتِهُمْ ثُمَّانٌ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ پر آکر ختم ہو گیا ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیرزیر سورة الغاشیه) 741