نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 738 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 738

کرسکتا مگر زمین یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ اُسے پہاڑوں کی ضرورت نہیں یا پہاڑوں کے بغیر بھی اُس کی زندگی قائم رہ سکتی ہے۔زمین کی زندگی پہاڑوں کے بغیر قطعی طور پر ناممکن ہے۔اسی طرح اب جبکہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے پہاڑ بنا دیا ہے تمہارا فائدہ اسی میں ہے کہ زمین کی طرح اُن کے مقابلہ میں پچھ جاؤ۔جس طرح زمین پہاڑ کے مقابلہ میں بچھ کر ہی فائدہ اٹھاتی ہے اس کے بغیر نہیں اسی طرح تمہارا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ تم مسلمانوں کے مقابلہ میں کھڑے نہ ہو۔اگر پہاڑ کی اونچائی کے لحاظ سے اس مثال کو مسلمانوں پر چسپاں کیا جائے تو پھر معنے یہ ہوں گے کہ مسلمانوں کی مثال پہاڑوں کی طرح ہے اور تمہاری مثال زمین کی طرح۔ان مسلمانوں کے ذریعہ ہی اب دنیا سے فتنہ و فساد ڈور ہوں گے۔بے شک زمین سرسبز و شاداب ہوتی ہے اور کئی قسم کی روئید گیاں اس میں پیدا ہوتی ہیں مگر انہی پہاڑوں کے ذریعہ۔کیونکہ وہی بادلوں کے برسنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور وہی دریاؤں کا منبع ہیں۔پس اب تمہاری ترقی مسلمانوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ان سے جُدا ہو کر تم سکھ نہیں پاسکتے۔لَسْتَ عَلَيْهِمْ مُصَيْطِرٍ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مُصیطر نہ ہونا دونوں لحاظ سے ہے۔مومنوں کے لحاظ سے بھی اور کافروں کے لحاظ سے بھی۔یعنی آپ نہ مومنوں کے لئے مُصيطر ہیں اور نہ کفار کے لئے مُصيطر ہیں۔کفار کو اگر جبر آمذہب میں شامل بھی کیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔وہ ظاہر میں تو مذہب قبول کرلیں گے لیکن دل میں منافق رہیں گے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے لَسْتَ عَلَيْهِمُ بمُصَيْطِرِ کہہ کر غیر مذاہب والوں کو جبراً اسلام میں شامل کرنے کی ممانعت فرما دی ہے اور بتایا ہے کہ ہم نے تمہیں اُن کا داروغہ مقرر نہیں کیا۔اگر تم جبر سے کام لو گے تو اس سے نہ مومن کو فائدہ ہوگا نہ کافر کو۔کافر کو تو اس لحاظ سے فائدہ نہیں ہوگا کہ اگر وہ تلوار کے ڈر سے مسلمان ہو بھی جائے تو بہر حال وہ منافق مسلمان ہو گا اور منافق کافر سے بدتر ہوتا ہے۔مومنوں کو اس لئے فائدہ نہ ہوگا کہ منافق اُن کی طاقت کو کمزور کرنے والے ہوں 738