نُورِ ہدایت — Page 737
نسبت بتائی ہے۔اور میرے نزدیک ان آیات میں یہی آخری طریق استعمال ہوا ہے۔ابل کے معنے اس جگہ اونٹوں ہی کے ہیں لیکن سماء کے معنے اس جگہ آسمان کے نہیں بلکہ بادل کے ہیں جیسا کہ وَالسَّمَاء ذَاتِ الرّجع (الطارق) میں سماء کے معنے بادل کے ہیں۔آیت میں کفار کو اونٹوں سے مشابہت دی ہے کہ باوجود اونچا ہونے کے سواری کے کام آتے ہیں اور مسلمانوں کو بادلوں سے مشابہت دی ہے کہ نظر نہ آنے والے ذروں سے بنتا ہے اور آخر بلند ہو کر دنیا پر چھا جاتا اور اُسے سیراب کر دیتا ہے۔وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتُ اس آیت میں دوسری مثال بیان کی گئی ہے جس کا مضمون اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے۔فرماتا ہے تم پہاڑوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح زمین میں گڑے ہوئے ہیں۔دوسری جگہ پہاڑوں کا فائدہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تميدرهم (الانبیاء 32) ہم نے پہاڑ اس لئے بنائے ہیں کہ زمین ہل نہ جائے اور لوگ تباہ نہ ہو جائیں۔زمین کی غیر ضروری حرکت کو پہاڑوں نے ہی روکا ہوا ہے ورنہ بنی نوع انسان کا زمین میں قیام بالکل ناممکن ہو جاتا۔اللہ تعالی گزشتہ مضمون کے تسلسل میں کفار کو توجہ دلاتا ہے کہ تم اپنے دلوں میں خیال کرتے ہو کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ مسلمان غالب آجائیں۔اور ہم مغلوب ہو جائیں۔ہم طاقتور اور بڑی عزت اور شان رکھنے والے ہیں۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہمارے ہم قوم اور ہمارے ہم مذہب ہم کو چھوڑ کر ان کے پیچھے دوڑنے لگ جائیں۔مگر تمہارا یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے۔تم بے شک اچھے ہو مگر تمہاری اور مسلمانوں کی حالت میں جو کچھ فرق ہے وہ اس سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو ہم نے اپنی مشیت کے ماتحت پہاڑ بنایا ہے اور تم کو زمین بنایا ہے۔زمین پہاڑوں کے ذریعہ ہی قائم رہتی ہے۔اگر پہاڑ نہ ہوں تو زمین بھی اس حالت میں نہ رہے۔پس بے شک تم میں خوبیاں ہیں اس سے ہم انکار نہیں کرتے۔جس طرح زمین میں بھی خوبیاں پائی جاتی ہیں اور کوئی شخص ان خوبیوں سے انکار نہیں 737