نُورِ ہدایت — Page 736
ترتیب کے لحاظ سے مدارج دو ہی طرح بیان کئے جاسکتے ہیں۔یا نیچے سے اوپر کی طرف مضمون کو لے جایا جائے یا اوپر سے نیچے کی طرف۔اب اس آیت میں پہلے اونٹوں کا ذکر ہے پھر سماء کا۔یہاں تک تو ترتیب درست ہے۔یعنی نیچے سے اوپر کی طرف مضمون لے جایا گیا ہے مگر اس کے بعد پہاڑوں کا ذکر ہے جو نہ سماء سے اونچے ہیں نہ اُن کے برابر۔اور اس کے بعد زمین کا ذکر ہے جو پہاڑوں سے اونچی نہیں ہوتی۔دوسری ترتیب یہ ہوتی ہے کہ اوپر سے نیچے کی طرف آیا جائے۔مگر اس لحاظ سے بھی بات نہیں بنتی کیونکہ اونٹ جو چھوٹی چیز ہے اُسے پہلے ذکر کر دیا گیا ہے اور سماء جو بلند چیز ہے اُس کا بعد میں ذکر کیا گیا ہے۔گویا نہ یہ ترتیب بنتی ہے کہ اونٹ سب سے نیچا ہو۔اُس سے اُونچا آسمان ہو۔اس سے اونچا پہاڑ ہو اور اس سے اونچی زمین ہو۔اور نہ یہ ترتیب بنتی ہے کہ اونٹ سب سے اونچا ہے۔آسمان اُس سے نیچا ہو۔پہاڑ اس سے نیچے ہوں اور زمین اُن سے نیچی ہو۔کبھی کبھی ایک اور رنگ بھی ترتیب کے بیان میں استعمال کر لیا جاتا ہے وہ اس طرح کہ پہلے درمیانی چیز کا ذکر کر دیا جاتا ہے پھر اُن اشیاء کا ذکر کر دیا جاتا ہے جو اس کے دائیں بائیں ہوں۔مگر یہاں اہلی کے بعد آسمان کا ذکر دیا گیا ہے۔آسمان کے بعد پہاڑوں کا اور پہاڑوں کے بعد زمین کا۔اگر چوٹی کی چیز کو پہلے بیان کر دیا جاتا اور اس کے بعد ایسی چیز کا نام لیا جاتا جو اس سے کم اونچی ہیں تو خیر کوئی بات بھی تھی مگر بظاہر اس جگہ کوئی اصل بھی مڈ نظر نہیں رکھا گیا۔نہ نیچے سے اوپر مضمون گیا ہے نہ اوپر سے نیچے کو مضمون گیا ہے اور نہ درمیان کی کسی چیز کا پہلے ذکر کر کے اس سے تعلق رکھنے والی چیزوں کا بعد میں ذکر کیا گیا ہے۔پس یا تو ان آیات کو بے ترتیب قرار دینا پڑے گا جو قرآن کریم کی شان کے خلاف ہے۔یا ان آیات کو دو الگ الگ مثالوں پر مشتمل قرار دینا ہوگا۔جن میں سے ایک میں نیچے سے اوپر کی طرف مضمون لے جایا گیا ہے اور دوسری میں اوپر سے نیچے کی طرف ایک مثال کے ذریعہ اہل اور سماء کی آپس میں کوئی نسبت بتائی ہے۔اور دوسری مثال کے ذریعہ جبال اور آرض کی آپس میں کوئی 736