نُورِ ہدایت — Page 725
صرف وقتی ہوتا ہے لیکن کچھ لوگوں کا احسان صدقہ جاریہ کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے۔مثلاً کسی غریب کو ایک پیسہ دے دینا یہ بھی احسان ہے۔مگر جب وہ اُس پیسے سے روٹی خرید کر کھا لیتا ہے تو اس احسان کا دائرہ ختم ہو جاتا ہے۔لیکن ایک احسان یہ ہے کہ کسی کو دین کی باتیں سکھائی جائیں یا اخلاقی لحاظ سے اعلیٰ تربیت دی جائے۔یہ احسان بڑا وسیع ہے۔یا مثلاً کسی کو کوئی پیشہ سکھا دینا یا کسی کو کوئی پیشہ چلانے کے لئے مدد دے دینا یا اُسے اپنے پیشہ کے چلانے کے لئے ہتھیار خرید دینا یہ احسان اپنے اندر بہت بڑی وسعت رکھتا ہے۔روٹی دے دینا اور قسم کا احسان ہے اور پیشہ سکھا دینا یا پیشہ چلانے کے لئے روپیہ سے امداد کرنا یا ہتھیار و غیر خرید دینا یہ اور قسم کا احسان ہے۔پہلی قسم کا صدقہ ختم ہو گیا مگر یہ صدقہ صدقہ جاریہ ہے۔فِيهَا عَيْن جَارِيَةٌ سے یہی مراد ہے کہ ان کے صدقات صدقات جاریہ ہوں گے اور ان کے احسان بنی نوع انسان سے محدود نہیں ہوں گے یا معمولی اور چھوٹے درجہ کے نہیں ہوں گے۔بلکہ ایسے ہوں گے جو عرصہ دراز تک چلتے چلے جائیں گے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحابہ نے علم لیا۔اور پھر اُسے دنیا میں اس طرح پھیلا یا کہ عَنْ فُلانٍ عَن فُلانٍ کے ایک لمبے سلسلہ کے ماتحت وہ انگلی نسلوں تک پہنچ گئے۔اگلوں نے اگلوں تک اور پھر اگلوں نے اگلوں تک یہاں تک کہ وہ سارے علوم ہم تک پہنچ گئے۔اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام میں یہ خوبی بدرجہ اتم رکھی ہوئی تھی کہ وہ علوم کے خزانے صرف اپنے تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ دوسروں تک عَيْن جَارِيَةٌ بن کر پہنچا دیتے تھے۔لوگوں کے پاس علم ہوتا ہے تو وہ اُس کو بند کر لیتے ہیں۔مگر صحابہ کی یہ حالت تھی کہ ایک صحابی سے ایک دفعہ کسی نے کوئی بات پوچھی۔اُس نے جواب دیا کہ مجھے تو یہ بات معلوم نہیں لیکن اگر مجھے معلوم ہوتی اور میری گردن پر کوئی شخص تلوار رکھ کر کہتا کہ اب میں تجھے قتل کرنے لگا ہوں تو میں اس کی تلوار چلنے سے پہلے جلدی جلدی بتا دیتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے میں نے فلاں فلاں بات سُنی ہوئی ہے۔یہ عین جَارِيَةٌ ہی تھے کہ کسی جگہ لکتے نہیں تھے بلکہ بہتے چلے جاتے تھے۔725