نُورِ ہدایت — Page 724
اخلاق کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جس طرح لسعيها رَاضِيَةً میں تین باتوں کا ذکر کیا گیا تھا۔مسلمانوں کا اپنے نفس سے سلوک، مسلمانوں کا بنی نوع انسان سے سلوک اور مسلمانوں کا خدا تعالیٰ سے سلوک۔اور بتایا گیا تھا کہ وہ تینوں لحاظ سے کامل ہوں گے۔اسی طرح لا تسمعُ فيها لاغِيَةً میں اوّل اُن کے اخلاق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ بخیل اور حریص نہیں ہوں گے کہ اگر انہیں لوگوں سے حسن سلوک کرنا پڑے تو وہ گالیاں دینے پر اُتر آئیں۔یا اُن کے مزاج میں چڑ چڑا پن نہیں ہوگا کہ لوگ انہیں برا کہیں۔بلکہ وہ لوگوں کے محسن ہوں گے، منعم ہوں گے، معلم ہوں گے اور لوگ اُن کی تعریف کریں گے۔لیکن کمینے انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ دونوں حالتوں میں لڑتا ہے۔اُس پر احسان کرو تب بھی لڑتا ہے۔نہ کرو تب بھی لڑتا ہے گویا اُس کی حالت گتے کی طرح ہوتی ہے کہ ان تخیل عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ (الاعراف (177) دونوں حالتوں میں زبان نکالے کتے کی طرح پیچھے پڑا رہتا ہے۔ایسا انسان اسی صورت میں خاموش ہوتا ہے جب اُس کے مد مقابل کو حکومت اور غلبہ میسر آجائے۔پس فرماتا ہے مسلمانوں کو غلبہ مل جائے گا اور کوئی صورت لاغية سننے کی نہیں رہے گی۔دشمنان دین جو احسان فراموش ہیں وہ غلبہ کی وجہ سے تعریف کریں گے اور یہ خود نیک طبیعت ہونے کی وجہ سے کسی سے بدگوئی نہیں کریں گے اس لئے لغو ان کو سُنائی ہی نہیں دے گا۔فِيْهَا عَيْن جَارِيَةٌ مومن جبس جنت میں رہیں گے۔اُس میں ایک جاری چشمہ ہوگا۔اگلے جہان میں تو یہ ہوگا ہی۔اس کے متعلق کسی تفصیل کی ضرورت نہیں۔نہ میں نے اسے دیکھا ہے اور نہ کسی اور نے۔یہ ایک ایمانی معاملہ ہے۔لیکن دنیا کے لحاظ سے یہ معنے ہیں کہ وہ ایسے علوم اپنے ورثہ میں چھوڑیں گے اور ایسے سلوک بنی نوع انسان سے کریں گے جن کا اثر عرصہ دراز تک چلتا چلا جائے گا۔کچھ لوگوں کا احسان 724