نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 726 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 726

پھر عَيْن جَارِيَةٌ میں یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ صحابہ اور اُن کے شاگردڈ ورڈ ور تک نکل جائیں گے۔صرف عرب میں محدود نہیں رہیں گے۔چنانچہ دیکھ لو مسلمان عرب سے نکلے اور دنیا کے دور دراز ممالک تک پھیل گئے یہاں تک کہ وہ چین بھی گئے اور انہوں نے اسلام پھیلایا۔انطاکیہ میں بھی گئے اور اسلام پھیلایا۔سپین میں بھی گئے اور اسلام پھیلایا۔غرض وہ دنیا کے کناروں تک نکل گئے اور دنیا میں علوم کے دریا انہوں نے بہا دیئے۔جس طرح جاری چشمہ کا پانی ڈور ڈور کی زمین کو سیراب کر دیتا ہے اسی طرح مسلمان ٹھہرتے نہیں تھے بلکہ اپنے علوم سے دنیا کو مستفیض کرتے چلے جاتے تھے۔یہی خوبیاں ہیں جو جیتنے والی اقوام سے مخصوص ہیں۔ہماری جماعت کو سوچنا چاہئے کہ کیا ہم میں بھی یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں یا نہیں؟ حکومت کا حصہ تو اپنے وقت پر آئے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا باقی خوبیاں ہم نے اپنے اندر پیدا کر لی ہیں ؟ کیا ہم اپنی نظر میں لوگوں کی نظر میں اور پھر خدا تعالیٰ کی نظر میں ہر قسم کے نقائص سے پاک ہیں؟ کیا ہمارے اخلاق اس قسم کے ہیں کہ ہم نہ اپنی زبان سے لاغیہ سنتے ہیں اور نہ لوگوں کی زبان سے لاغیہ سُنتے ہیں؟ اور کیا ہماری کوششیں یہی ہوتی ہیں عَيْن جَارِيَةٌ کی طرح ہم جو بات بھی سنیں اُسے دوسرے لوگوں تک پہنچا دیں یا ہم صرف واہ واہ اور سبحان اللہ کہنے کے لئے سنتے ہیں؟ صحابہ کی یہ حالت تھی کہ وہ رات اور دن تعلیم میں لگے رہتے تھے اور پھر جو کچھ سیکھتے اسے اپنے سینوں میں ہی نہ رکھتے بلکہ لوگوں تک پہنچا دیتے۔گویا وہ ایک جاری چشمہ تھا جو دنیا کو سیراب کر رہا تھا۔کتنی زبر دست خواہش دوسروں تک علوم پہنچانے کی ہے جو اُس صحابی کے دل میں پائی جاتی تھی جس نے کہا کہ اگر تلوار میری گردن پر چل رہی ہو تو اُس وقت میری آخری خواہش یہ ہوگی کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی بات بیان کرنی مجھ سے رہ گئی ہو تو میں اُسے جلدی جلدی بیان کر دوں۔یہی خوبی ہماری جماعت کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے اور اپنے آپ کو علوم کے لحاظ سے عَيْن جَارِيَةٌ ثابت کرنا چاہئے۔726