نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 706 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 706

نئی شریعت لائیں۔اور سورۃ الغاشیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ مسلمانوں کی ترقی دور اول میں ہو یا دور آخر میں ہمیشہ ایسے ماموروں کے ذریعہ ہوگی جن کی شدید مخالفت ہوگی مگر بالآخر وہ جیت جائیں گے جیسا کہ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةُ عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ میں بتایا ہے۔پس مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اُن کی ترقی ہمیشہ مامورین پر ایمان لانے اور ساری دنیا سے لڑائی جھگڑا مول لینے کے بعد ہوگی۔ایسا وجود کوئی نہیں آسکتا جسے لوگ آپ ہی آپ مان لیں۔پس آسمان سے کسی مامور کے اترنے کا خیال بالکل خلاف قرآن ہے۔هَل جب فعل سے پہلے آئے تو اس کے معنے قد کے ہوتے ہیں لیکن عام طور پر ھل تصدیق ایجابی کے لئے ہوتا ہے۔یعنی عام معنے اس کے ایسے سوال کے ہیں جس کے جواب میں تصدیق کا مطالبہ ہوتا ہے سوائے اس کے کہ اس کے بعد الا آ جائے۔اس وقت اُس کے معنے نفی کے ہو جاتے ہیں۔پس آیت کے معنے یا تو یہ ہوں گے کہ کیا حدیث غاشیہ آپہنچی یا نہیں؟ یعنی آپہنچی ہے۔اور یا پھر یہ معنی ہوں گے کہ وہ ضرور آپہنچی ہے۔حدیث کے معنے خبر کے ہوتے ہیں (اقرب) عاشِيَة : ماشینی کا مونث ہے اور اس کے معنے ہیں ڈھانکنے والی چیز۔نیز عاشِيَةٌ قیامت کا بھی نام ہے کیونکہ اس میں اس قدر ڈر اور خوف اور صدمہ کی باتیں ہوں گی کہ ان کی وجہ سے وہ انسانی دماغ پر چھا جائے گی۔(اقرب) جب کبھی کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے باقی سارے حالات انسان کے دل سے محو ہو جاتے ہیں۔قیامت چونکہ ایک بڑا بھاری حادثہ ہوگا اور قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ اس وقت ہر شخص دوسرے کو بھول جائے گا یہاں تک کہ ماں اپنے بچہ کو بھول جائے گی اور قیامت کا خیال باقی تمام خیالات پر مستولی اور غالب آجائے گا اس لئے قیامت کو بھی غاشیة کہا جاتا ہے۔اور غاشية جہنم کی آگ کو بھی کہتے ہیں (اقرب) کیونکہ اس کا عذاب کامل ہے۔عام عذاب ایسے ہوتے ہیں کہ اُن میں کوئی نہ کوئی 706