نُورِ ہدایت — Page 707
پہلو عذاب سے بچا ہوا ہوتا ہے۔ایک طرف سے اگر دُ کھ پہنچ رہا ہوتا ہے تو دوسری طرف سے سکھ بھی پہنچ رہا ہوتا ہے۔۔۔مگر جہنم کے عذاب کو غاشیہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ کامل عذاب ہوگا اور اُس میں سکھ کا کوئی پہلو نہیں ہوگا۔اور غاشية زبردست مصیبت کو بھی کہتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں تأْتِيْهِ غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللهِ أَى نَائِبَةٌ تَغْشَاهُ۔یعنی اُس پر ایسی مصیبت نازل ہو گی جو اُس کو ڈھانپ لے گی (اقرب) اور غاشیة پیٹ کی بیماری کو بھی کہتے ہیں۔اور غاشية کے معنے ایسی جماعت کے بھی ہیں جو سوال کے رنگ میں یا کوئی اور فائدہ اُٹھانے کے لئے انسان کے پیچھے پڑی رہے۔(اقرب) سوالیوں کو اس لئے غاشیة کہتے ہیں کہ وہ بُری طرح پیچھے پڑ جاتے ہیں۔نوکروں چاکروں کو بھی غاشیة کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی آقا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اُس کے آگے پیچھے پھرتے ہیں۔اسی طرح وہ دوست جو ایک دوسرے سے ملنے کے لئے گھروں پر آتے جاتے ہیں وہ بھی غاشیۃ کہلاتے ہیں (اقرب) قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ الہی عذابوں میں سے ایک عذاب خاص طور پر غاشیہ کہلانے کا مستحق ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی آیا اور مسیح موعود کے زمانہ کے لئے بھی اس کی پیشگوئی تھی۔سورۃ دُخان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَارْتَقِبُ يَوْمَ تأتي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ (الدخان 12-11) یعنی تُو انتظار کر اُس دن کا جب آسمان پر دُھواں ہی دُھواں چھا جائے گا اور سارے انسانوں کو اپنے اندر ڈھانپ لے گا۔یہ عذاب ہے جو نہایت ہی درد ناک ہو گا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ والوں نے سخت دُکھ دیا تو آپ نے اس پیشگوئی کے ماتحت دعا کی کہ اللهُمَّ اعِتِى عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ بخاری جلد 3 کتاب تفسیر القرآن) اے خدا ان لوگوں نے مجھے سخت تنگ کر لیا ہے تو میری اُن سات سالوں سے مدد فرما جن سات سالوں سے تو نے حضرت یوسف علیہ السلام کی مدد کی تھی۔چنانچہ اس دعا کے نتیجہ میں اُس زمانہ میں شدید قحط پڑا۔بارشیں رُک گئیں اور اس قدر تباہی آئی کے مکہ والوں نے ابوسفیان کو خاص طور پر 707